مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام پاکستان کے کئی شہروں میں یوم القدس ریلیوں کا انعقاد

اسلام آباد کی مرکزی القدس ریلی سے خطاب کر تے ہوئے سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین کی اسلامی شناخت کو ختم نہیں ہونے دیں گے یہ اسلامی رہے گا

اسلام آباد( )مجلس وحدت مسلمین اور آئی ایس او پاکستان کے زیر اہتمام عالمی یوم القدس کے سلسلے میں اسلام آباد، لاہور ، کراچی، پشاور، کوئٹہ، ملتان، مظفر آباد اورگلگت بلتستان سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ریلیوں کی قیادت ایم ڈبلیو ایم اور آئی ایس او کے مرکزی ،صوبائی اور ضلعی قائدین نے کی۔اسلام آباد کی مرکزی القد س ریلی سے خطاب کر تے ہوئے سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین کی اسلامی شناخت کو ختم نہیں ہونے دیں گے یہ اسلامی رہے گا ۔عالمی استعمار اور صہیونی قوتیں بیت المقدس کو یہودی بنا نا چاہتی ہیں ہم ایسا نہیں ہونے دیں گئے ہم مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے ساتھ ہیں القدس ریلیاں درحقیقت مقاومت کی علامت ہیں اس سے دنیا بھر میں شعور پیدا ہو رہا ہے اور ہر سال اس میں اضافہ ہور ہارہے ان کا مذید کہنا تھا کہ اسلامی جمہوری ایرا ن واحد ملک ہے جس نے مسئلہ فلسطین کو زند ہ رکھا ہے اور ہر ممکن مدد کر رہا ہے ۔نیل فرات تک کا خواب دیکھنے والا اسرئیل آج اپنے گرد دیواریں بنانے پر مجبور ہے امام خمینی نے بتایا تھا کہ بیت المقدس کی آزادی مقاومت اور مزحمت کے بغیر نا ممکن ہے اسرائیل کسی صورت مزاکرات سے فلسطین اور بیت المقدس سے دست برادار نہیں ہو گا ،اسرائیل کی مایوسی اور امریکہ کو عزائم میں ناکامی درحقیقت ان استعماری قوتوں کی شکست ہے جو امت مسلمہ کو سرنگوں دیکھنے کے لیے بے چین تھے۔ظلم کے خلاف ٹکراؤ کا جواعلان عظیم قائد امام خمینی نے کیا تھا آج ان کے انقلابی بیٹے ان کے پرچم کو اٹھائے میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں اور کفر و باطل کے خلاف ہمیشہ میدان میں حاضر رہیں گے انہوں نے کہا کہ اس وقت فلسطین، کشمیر، برما سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کوبدترین ظلم و بربریت کا سامنا ہے دیگر مقررین نے اپنے خطابات میں مظلوم فلسطینیوں پر صیہونی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر کے مظلومین کی حمایت کا اعادہ کیا۔شرکاء نے احتجاجی بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل،امریکہ اور بھارت مخالف نعرے درج تھے۔مظاہرین نے طاغوتی طاقتوں کی جارحیت اور اسلامی ممالک میں مداخلت کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے شدید نعرہ بازی کی احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر امریکہ و اسرائیل کے پرچم اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پتلے بھی نذر آتش کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں