‘امریکی صدر کو کھوکھا الاٹ کرنے کا اختیار نہیں، ہم یہاں وزیراعظم کو کیسے اختیار دیدیں ؟’

ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ کا صدر کھوکھا تک الاٹ نہیں کر سکتا، ہم وزیراعظم کو تقرریوں کا اختیار کیسے دے دیں ؟ نوازشریف کو نوٹس کر کے بلا لیتے ہیں ، وہ خود وضاحت کریں ۔ کیا عطاء الحق قاسمی کی تقرری میں شفافیت نہ ہونے پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عطا الحق قاسمی کی تقرری کے لیے قواعد و ضوابط طے کرنے کا اختیار بورڈ کا تھا ، بورڈ کے انتخاب کے بغیرعطاالحق قاسمی چئیرمین کیسے بن گئے ؟ نوازشریف بتائیں کہ مراعات اور تنخواہ کا تعین کیسے کیا ؟ تقرری درست نہیں تو پھرعطاالحق قاسمی پر اٹھنے والے اخراجات تقرری کے ذمہ داران واپس کریں، کیا تقرری میں شفافیت نہ ہونے پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق نہیں ہوگا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر تقرری میں بے ایمانی ثابت ہو جائے تو عدالت آرٹیکل 62 ون ایف لگا سکتی ہے ، عدالت کے سامنے شرمندہ ہوں، عطاالحق قاسمی کا نام اس وقت کے وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے تجویز کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شرمندہ وہ ہوں جنھوں نے تعیناتی کی ہے، کیا وفاقی وزیرکا جو دل چاہے گا کرے گا ، عوام نے ریاست کو اس انداز سے چلانے کے لیے منتخب نہیں کیا۔ پرویز رشید نے کہا کہ میری یادداشت کے مطابق بورڈ کی میٹنگ ہوئی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگرمیٹنگ ہوئی تو ایجنڈا فراہم کریں ، ورنہ تقرری غیرقانونی ہوگی۔

فواد حسن فواد نے کہا کہ عطاالحق قاسمی کی تقرری کے لیے وزیراعظم نے زبانی احکامات دئیے تھے ، وفاقی حکومت کے معاملات ایسے ہی چلائے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس کس قانون کے تحت یہ اختیار تھا؟ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں