سپریم کورٹ:پنجاب میں معطل بلدیاتی ادارے 22 ماہ بعد بحال

سپریم کورٹ نے پنجاب میں معطل بلدیاتی ادارے لگ بھگ 2 سال بعد بحال کردیئے۔عدالت نےبلدیاتی ایکٹ کا سیکشن تھری آئین سے متصادم قرار دیا ہے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ایک نوٹیفکیشن کا سہارا لے کرعوامی نمائندوں کو گھر بھجوانے کی اجازت نہیں دےسکتے،صوبے مئی میں بلدیاتی انتخاب کروادیں۔

جمعرات کوسپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات سےمتعلق کیس کی سماعت کےدوران ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نےبتایا کہ صوبائی حکومت بلدیاتی انتحابات کرانےکیلئے تیار ہے۔

معطل میئرساہیوا کےوکیل نے بتایا کہ صوبے میں بلدیاتی حکومتوں کی میعاد دسمبر 2021 تک تھی۔نئی حکومت نے لوکل گورنمنٹ تحلیل کرکے ایک سال میں الیکشن کرانےکا وقت دیا اوربعد میں نئی ترمیم کی اورآرڈینس جاری کیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عوام نے بلدیاتی نمائندوں کو 5 سال کیلئےمنتحب کیا۔ایک نوٹیفکیشن کا سہارا لےکرنمائندوں گھر بھجوانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔آرٹیکل 140 کے تحت قانون بناسکتے ہیں مگر ادارے کو ختم نہیں کرسکتے۔

عدالت نے 2019 کے بلدیاتی ایکٹ کی سیکشن 3 کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے پنجاب میں تمام بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

پنجاب حکومت نے مئی 2019 میں بلدیاتی ادارے تحلیل کیے تھے۔الیکشن کمیشن نے بھی صوبائی حکومت کا اقدام غیرقانونی قرار دیا تھا۔بلدیاتی اداروں کی تحلیل کیخلاف درخواستیں ساہیوال کےمیئراسد علی خان سمیت دیگر بلدیاتی نمائیندوں نے دائر کی تھیں۔ درخواستوں پر نوازش علی پیرزادہ کی جانب سے عدالت میں دلائل دیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں