کووڈ-19 کے باوجود صنعتی ترقی 22ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ حکومت کی ‘میک ان پاکستان پالیسی’ کی بدولت کووڈ-19 کے باوجود صنعتی ترقی 22ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں حکومت کی ‘میک ان پاکستان پالیسی’ کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں اور کووڈ-19 کے بدترین اثرات کے باوجود صنعتی ترقی 22ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیماننے پر مینوجیکچرنگ کے انڈیکس جولائی تا دسمبر 20-2019 کے مقابلے میں جولائی 21-2020 میں 8.16فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس انڈیکس میں دسمبر 2019 کے مقابلے میں دسمبر 2020 میں 11.40فیصد اضافہ ہوا۔

مشیر تجارت نے کہا کہ صنعتی پیداوار میں اضافے سے ناصرف نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ اس سے برآمدات میں بھی اضافہ ہو گا۔

اس سے قبل عبدالرزاق داؤد نے مزید چند ٹوئٹس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کررہے ہیں کہ گزشتہ ڈھائی سال میں کی گئی اصلاحات اور کاروبار کے لیے کی گئی آسانیوں کی درجہ بندی میں بہتری کے نتیجے میں پاکستان میں کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سال 2020 میں سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں 20ہزار 342 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں جو 2019 کے مقابلے میں 24فیصد بہتری کی عکاسی کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے مقابلے میں 2019 میں 16ہزار456 کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی اور ان کا کہنا تھا کہ اگر 2018 سے مقابلہ کیا جائے تو رجسٹریشن میں 54فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مشیر تجارت نے کہا کہ جنوری 2021 کُل 2ہزار 201 کمپنیوں کی سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹریشن ہوئی جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 12فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے اس رجحان کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے اس کا کریڈٹ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور بورڈ آف انویسٹنٹ کو دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کاروبار کو باضابطہ طور پر قانونی شکل دینے کی اس پیشکش کا فائدہ اٹھائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں