دنیا کا جدید ترین مصنوعی دل، یورپ میں اس سال دستیاب ہوگا

دنیا بھر میں لوگوں کی بڑی تعداد دل کی کمزوری یا یعنی ہارٹ فیل ہونے کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ جب تک دل کا عطیہ نہیں مل جاتا اس وقت تک کے لیے ایک جدید ترین مصنوعی دل بنایا گیا ہے جس کی فروخت اسی سال شروع ہوجائے گی۔

فرانسیسی کمپنی کارمٹ نے یہ دل بنایا ہے جو مصنوعی قلب سازی میں کی عشروں کا تجربہ رکھتی ہے۔ اس سے قبل یہ فرم سینکڑوں لوگوں کو مصنوعی دل لگاچکی ہے لیکن اس بار نئی ایجاد ’ایسن‘ بہت جدید ہے۔ اس سال کے وسط تک یورپ میں اس کی فروخت شروع ہوجائے گی۔

اب ایسن نامی دل کا احوال پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ اس کا وزن 900 گرام ہے جس میں بہت نفیس سینسر اورحیاتیاتی مٹٰیریل سے تیار کردہ ہے۔ اس میں چار والو یا خانے لگے ہیں جو خون کی آمدورفت کو ممکن بناتے ہیں۔ دو وینٹریکل ہیں جن میں ایک میں خون اور دوسرے میں مائع ہے جو دل چلانے کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ پورا حصہ حیاتیاتی مٹیریئل سے بنا ہے جو انسانی قلب سے قریب تر ہے۔

دو عدد مائیکروپمپ ہیں جو خون کی روانی سے دل کی دھڑکن جیسا عمل پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لاتعداد سینسر، پروسیسر اور سرکٹ نصب ہیں ۔ ان کا کام یہ ہے کہ مریض کی بدلتی ہوئی کیفیات کے لحاظ سے دل کو چلاتے ہیں اور یوں مصنوعی دل قدرتی انداز میں کام کرتا ہے۔

ہر سال دل کی ناکامی اور ہارٹ فیلیئر سے کم سے کم تین کروڑ لوگ مرجاتےہیں۔ اب عطیہ دل کے منتظر مریض دل پکڑے پکڑے اس دنیا س رخصت ہوجاتےہیں۔ اسی لیے مصنوعی قلب ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ مثلاً 2015 میں اسی کمپنی نے ایک مریض کو مصنوعی قلب لگایا تو اس نے کہا کہ وہ بہت اچھا محسوس کررہے ہیں۔

69 سالہ ایک اور مریض نے بتایا کہ مصنوعی دل لگانے کے بعد وہ دن میں کئی مرتبہ چلتے اور پھرتے ہیں۔ 15 سے 20 دفعہ اٹھتے اور بیٹھتے ہیں لیکن انہیں کوئی تکلیف نہیں اور وہ بالکل تندرست ہیں۔

کارمٹ کے مطابق یہ دل مکمل طور پر خودکار ہے لیکن اسے چلانے کے لیے ایک بیٹری اور دیگر آلات اٹھانے پڑتے ہیں جن کا وزن 5 کلوگرام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں