جرمن پڑوسی کی دردناک موت

تحریر:سیّد اقبال حیدر

جرمنی میں موسم سرما میں چھٹیاں والدین نے بچوں کے ساتھ ”لاک ڈاؤن‘’کی کیفیت میں گھروں میں گذاریں،اس ماہ ِاکتوبر میں بچوں کی چھٹیوں میں برادرِعزیز رضا حسین کی میزبانی میں چار روز گذار کر فرینکفرٹ آنے پر بلڈنگ میں دردناک خبر میری منتظر تھی،میرا 52 سالہ جرمن پڑوسی”اندریاس“ مر گیا،اس کی موت بدھ کے روز ہوئی اور تین روز بعد پولیس نے دروازہ کھول کر اس کی میت نکالی۔اندریاس پچھلے 16برس سے میرا پڑوسی تھا،ہمیشہ سے اکیلا تھا ابتدائی 4 سال اس کے ساتھ اس کا کتا رہتا تھا جو مر گیا،اس کے بعد اندریاس اکیلا ہو گیا،8 ماہ پہلے اسے فالج کا اٹیک ہوا،میں اور ایک اور جرمن پڑوسن اس کے کھانے پینے کی خرید و فروخت میں اس کی مدد انسانی ہمدردی کے تحت کرتے تھے۔اندریاس ایک خوش اخلاق انسان تھا اس کی اس دردناک موت نے،ہماری 11منزلہ بلڈنگ میں رہنے والوں کو سوگوار کر دیا،عالم تنہائی نے ”اندریاس“ کی زندگی نگل لی،تنہائی سماجی روابط کی کمزوری ہے ماہرین کے مطابق یہ صحت پر اثرانداز ہوتی ہے سماجی و معاشرتی رابطوں کا ٹوٹنا ڈپریشن،یاسیت،ذہنی تناؤ اور بہت سے ذہنی عارضوں کا سبب بنتا ہے،اکیلاپن ایک خطرناک رجحان ہے جو جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے،انسان کو چڑچڑا بناتا ہے اور پھریہی احساسی محرومی افراد کو انتہا پسندی کی طرف بھی دھکیلتا ہے ماہرینِ طب کے مطابق تنہائی قبل از موت کا بھی سبب بنتی ہے۔ اندریاس کی طرح بہت سے لوگ یورپ میں اکیلے زندگی گزارتے ہیں،اکیلے زندگی گذانا ایک زندہ موت ہے، ا نسانیت کی موت ہے، انسان ایک معاشرتی انسان ہے،کچھ لوگ اس اکیلے پن کو خود مختاری،آزادی کا نام دے کر اسے موڈرن زمانے کی زندگی کا نام دیتے ہیں۔لگ بھگ دو سو سال پہلے یورپ میں صنعتی انقلاب آنے سے پہلے یہاں بھی سماجی و معاشرتی زندگی خوبصورت تھی، تمام لوگ خاندان آپس میں جڑے رہتے تھے مگر اس صنعتی انقلاب نے مغرب کے باسیوں کو جذبات سے عاری مشین بنا دیا، انسانوں کو توڑ پھوڑ دیا،انسانوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دئے، یہ صنعتی انقلاب ایشیا اور عرب ممالک میں بھی وقت کے ساتھ آیا مگر وہاں کے ممالک نے اس سے استفادہ کرتے ہوئے ترقی تو کی مگر اسے اپنی تہذیب و تمدن اپنے رہن سہن پر طاری نہیں کیا اور خاندانی و معاشرتی ملاپ مستحکم رکھا، عمر رسیدہ جرمن بتاتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم سے قبل جرمنی میں بھی مشرقی ممالک کی طرح سماجی میل جول تھا اچھا کھانا بنتا تو ایک پلیٹ پڑوسی کے ہاں جاتی تھی مگر جونہی معاشرتی آزادی اور صنعتی ترقی کی لہر امریکہ سے آئی باہمی رہن سہن کا خوبصورت نظام ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گیا، جرمنوں نے بھی امریکہ کی تقلید کرتے ہوئے اپنی پرانی خوبصورت روایات کو ترک کر دیا اس طرح مشینی زندگی نے جنم لے لیا، اب یہی بیماری یورپ سے ایشیا کے ممالک میں منتقل ہو رہی ہے،،خاندان میں ”جوانٹ فیملی“ کا نظام ختم ہوتا جا رہا ہے، ایک شہرمیں رہتے ہوئے اپنوں سے دور ہو رہے ہیں،بزرگوں کی خدمت کے لئے اولاد کے پاس وقت نہیں،دادا کو پوتے سے دور کیا جا رہا ہے، نواسے کو نانا کی شفقت سے محروم کیا جا رہا ہے، ہمارے ملک کے چند بڑے شہروں میں ”اولڈ ہوم“ کا قیام اسی معاشرتی بے حسی کی زندہ مثال ہے، ”اندریاس“ کی موت کا سن کر مجھے جرمنی میں آباداپنی پاکستانی کیمونٹی کے وہ عمر رسیدہ افراد یاد آ گئے جو”اندریاس“ کی طرح فرینکفرٹ اور دیگر شہروں میں اکیلے پن کا شکار ہیں اور تنہا زندگی گذار رہے ہیں،حالانکہ مالی طور پر وہ اس قابل ہیں کی شادی کر کے اپنی ہم عمر خاتون یاکسی بیوہ خاتون کا سہارا بن کر اپنی بھی زندگی سنوار سکتے ہیں، ہر انسان معاشرے کا حصہ ہے اور ”معاشرتی سلوک“ معاشرتی ملاقات ہی کے نتیجے میں دنیا میں آیاہے جسے مختلف مذاہب میں مختلف نام دئیے گئے،عورت اور مرد کے رشتے سے نسل آگے بڑھتی ہے،بچہ پیدا ہوتا ہے لوگوں کے حصار میں پلتا ہے،پھر اسکول،کالج یہ نظام زندگی ہے اسی نظام سے منحرف اور باغی افراد جو تنہا رہتے ہیں،ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ان کی آخرت تنہائی کے سبب دردناک ہوتی ہے،ہمارتو ا مذہب اس غیر انسانی،غیر فطرتی نظامِ زندگی سے ہمیں روکتا ہے،اسی لئے ہمیں محلے کی قریبی مسجد میں نماز اور پھر تمام مسجدوں کے نمازیوں کو جمعہ کے لئے ایک جگہ ملکر نماز جمعہ پڑھنے کا حکم ہے تاکہ ملکرعبادت بھی ہواورسماجی،معاشرتی باہمی میل ملاپ اور ملاقات بھی قائم رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں