کرونا کی جرمنی میں نئی لہر

تحریر: سیّد اقبال حیدر

کرونا وبا ایک بار پھر اپنے اثرات کے ساتھ میدان میں سرگرم عمل نظر آ رہی ہے،دنیا بھر کے ماہرین اس کے علاج کی دوا بنانے میں مصروف ہیں مگر امید کی کرن انتہائی معدوم نظر آ تی ہے اس کی وجہ روزانہ کرونا کی ایک نئی شکل دیکھنے میں ملتی ہے کل کی تحقیق آج کی تحقیق سے مختلف نظر آرہی ہے اور عام عوام کی تحقیقی اداروں پربے یقینی اور عدم اعتماد کی وجہ بن رہی ہے،ایشیا،یورپ ہو یا امریکہ ایک طبقہ حکومتی اعلانات سے باغی نظر آ رہا ہے،جرمنی کے مختلف شہروں مختلف دنوں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرے نظر آئے جن میں زندگی کے مختلف شعبوں کے نمائیندے شریک تھے ان میں طالبعلم،ڈاکٹر،دانشور بھی نظر آئے جو حکومتی کروناپالیسیوں کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے،ان کے مطابق کرونا ایک ”ڈرامہ“ ہے اور سماجی میل جول میں پابندی ان کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے،دوسری طرف اگر ہم کرونا وبا کے ماہرین ڈاکٹرز کی رائے لیں تو وہ سماجی فاصلے اور احتیاط کو ”ویکسین“ کے آنے تک واحد علاج قرار دے رہے ہیں، یورپ میں کرونا کی عملی آمد فروری،مارچ 2020میں نظر آئی جبکہ چین میں انھیں دنوں کرونا کی تباہ کاریاں منظر عام پر آ چکی تھیں،یورپین ممالک آنکھیں بند کئے بیٹھے تھے آج ماہ اکتوبر میں پھر یورپ میں مارچ،اپریل جیسے حالات نظر آ رہے ہیں،جرمنی میں روزانہ کرونا متاثرین کی تعداد ہزاروں سے کم ہوکر سینکڑوں تک آئی اور عوام نے سکھ کا سانس لیا مگر ماہ اکتوبر کے وسط میں پھر یہ تعداد سینکڑوں سے ہزاروں کی طرف منتقل ہو رہی ہے،اسی ہفتہ میں ایک روز 3100پھر دوسرے روز 4000 تیسرے روز 4600 اور آج روزانہ بڑھنے والوں میں خطرناک حد تک اضافہ کے ساتھ7334 نظر آئی۔ آج دنیا بھر میں کرونا متاثرین کی تعدد اد38.930.160 ہے،1.098.434 افراد مر گئے جن میں جرمنی میں آج تک کرونا وبا کا 352.107 افراد شکار ہوئے اور9.739 جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کرونا بیماری کیسے آئی کہاں سے آئی اس کی دوا کب آئے گی اس پر مختلف رائے موجود ہیں مگر ایک بات طے ہے کہ اس کا پھیلاؤ صرف اور صرف بے احتیاتی،لاپرواہی سے ممکن ہے۔جہاں احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھا جاتا ہے وہاں ”کرونا“ اپنے پورے جاہ و ہشم کے ساتھ میدان ِ عمل میں نمودار ہو کر لوگوں کی زندگیاں نگلنا شروع کر دیتا ہے،میں جرمنی کی ہی بات کرتا ہوں جرمن حکومت نے دنیا میں کرونا کی آب و تاب دیکھتے ہوئے بھی ابتدا میں اپنے بارڈرز پر آنے جانے والوں پر نظر نہیں رکھی،میری زندگی کے 34برس فرینکفرٹ ایرپورٹ پر اہم عہدے پر ملازمت میں گذرے اس لئے فرینکفرٹ ائرپورٹ کے حالات نظر میں ہیں،فرینکفرٹ ایرپورٹ پر مسافرین کی آمد و رفت پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں تھی حتی کہ ان دنوں جب کرونا جرمنی میں عروج پر تھا،فلائٹس بند تھیں ان دنوں سپیشل آنے والی فلائٹس کے مسافروں کے بھی ائرپورٹ پر”چیک اپ“ نہیں ہوئے،آج پھر کرونا جرمنی پر دوسرا حملہ کرنے جا رہا ہے مگر حکومت کوئی متاثر کن فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے،بچوں کے والدین انھیں اسکول بھیجنے پر پریشان ہیں مگر وزارت تعلیم اسکول کھولنے پر بضد ہے، شائید کسی خطرناک صورت حال کی آمد کے انتظار میں؛؛؛. حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ عوام کی لاپرواہیوں کا ذکر بھی ضروری ہے، مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کے انعقاد کے لئے مقامی حکومت نے اگر ہمیں کچھ میل جول میں رعائت دی تو ہم نے مذہبی اور سماجی تقریبات کیں جن میں ”ایس و پیز“ کا خیال نہیں رکھا گیا،جس ہال میں 35 افراد کی گنجائش تھی وہاں تعداد زیادہ بھی دیکھنی کو ملی،اکثرلوگ بے خیالی میں مصافحہ کرتے نظر آئے،تقریب کے اختتام پر ”اللہ مالک ہے“ کہتے ہوئے ماسک ایک طرف رکھا، شانہ بہ شانہ دسترخوان پر بیٹھے اور”لنگر“ سے بھرپور استفادہ کیا،یورپین گوروں نے بھی اپنی پارٹیوں اور چھٹیوں کے دوران احتیاطی تدابیر کی د ھجیا ں اڑائیں اس طرح عوام کی اپنی لاپرواہیوں کے نتیجے میں یورپ کے مختلف مذہبی سینٹرز اور عوامی حلقوں میں کرونا دوبارہ پھیلا اور سرکاری اداروں کو وہ سینٹرز بند کرانا پڑے دوسری طرف کچھ تنظیموں اور مذہبی مراکز نے مقامی اداروں،ڈاکٹرز اور اپنے مذہبی مراجع عظام کی ہدائت کے مطابق اپنی سرگرمیاں ”آن لائن“ کرنے کا احسن فیصلہ کیا اور کرونا کے پھیلاؤ میں کمی کا عملی مظاہرہ کیا،اب جبکہ ”کرونا“ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے،سرد موسم اور برفباری کی آمد آمد ہے عوام کو ”کرونا“ کے پھیلاؤ کی روک تھام کی عملی تدابیر پرسختی سے عمل کرنا ہوگا تاکہ لاپرواہی کے سبب ہونے والی ہلاکتوں سے بچا جا سکے،خود کو اورخدائی مخلوق کو ہلاکت سے بچانے میں خدائے برحق بھی ہم سے خوش ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں