صدام کی سرنگونی نے امام حسین کے کروڑوں زائرین کا راستہ کھول دیا: سید حسن نصر اللہ

حزب اللہ لبنان کے سیکٹریٹری جنرل نے اربعین حسینی کی مناسبت سے اپنی تقریر میں لبنان اور خطے کے حالات کا تجزیہ کیا ہے۔


انھوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں امام حسین علیہ السلام کے چہلم اور زیارت اربعین کی مختصر تاریخ بیان کی اور کہا کہ تاریخ کے مطابق امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر سب سے پہلے ان کی زیارت جناب جابر ابن عبداللہ انصاری نے کی اور وہی امام حسین کے اربعین کے پہلے زائر تھے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ کربلا کا واقعہ، انقلابی ثقافت اور شجاعت کی علامت ہے۔ انھوں نے کہا کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے زمانے کے اور اسی طرح حالیہ صدیوں کے ظالم حکمراں کبھی بھی امام حسین علیہ السلام کے زائرین کے پیدل مارچ میں رکاوٹ نہیں ڈال سکے۔

انھوں نے کہا کہ آج دنیا کی مختلف اقوام، ٹیلی ویژن پر امام حسین کے دسیوں لاکھ زائرین کو دیکھ کر سید الشہداء علیہ السلام کے قیام اور اس کے اہداف سے آگاہ ہو رہی ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ صدام کی حکومت کی سرنگونی کے بعد عراق اور دیگر ممالک کے دسیوں لاکھ زائرین کے لیے امام حسین کی زیارت کا راستہ کھل گيا اور وہ پورے شکوہ کے ساتھ اربعین حسینی کا انعقاد کرنے لگے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب دیگر ممالک کے زائرین اس سال اربعین مارچ میں شریک نہیں ہیں لیکن دسیوں لاکھ عراقی کربلا کی جانب پیدل رواں دواں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پچھلے پچاس برس میں بعض اسلامی ممالک میں اسلامی بیداری اور اسلامی تحریکیں کامیاب رہی ہیں بالخصوص ایران میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمہوری نظام کا قیام ایک عظیم واقعہ تھا جو خطے میں رونما ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں