شیعہ سنّی بھائی بھائی ہیں ملکر ملکی استحکام کے لئے کام کریں:علامہ شہنشاہ نقوی

فرینکفرٹ(سیّد اقبال حیدر) اتحاد بین المسلمین کے علمبردار خطیب العرفاں علامہ شہنشاہ نقوی نے ملّت اسلامیہ کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان آج ایسے موڑ پر ہے جہاں ترقی کی راہیں کھلتی نظر آ رہی ہے،ملکی ترقی میں خوشگوار تبدیلیاں آرہی،پاکستان نئے دوستوں کی تلاش میں ہے،جب دیرینہ دوستوں میں نیا دوست شامل ہورہاتو کسی کا دل چھوٹا نہیں ہونا چاہئے،پاکستان اور اس کے دوست ممالک ملکر خطے کے استحکام کے لئے مل بیٹھیں سب ملکر ملک کی ترقی کے لئے کام کریں،ہم پڑوسیوں کے ساتھ ملکر محبت اور بھائی چارے کا ماحول قائم رکھیں،ہم اتحاد کے حامی ہیں شیعہ سنّی کی لڑائی تو بہت دور کی بات ہے اگر ایک سنّی دوسرے سنّی سے لڑے تو میرے لیے تکلیف دہ بات ہے،شیعہ سنّی نبی اکرمﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں،بھائی بھائی ہیں، شیعہ سنّی کے درمیان اختلافات پیدا کرنے والے مسلمانوں کو غیر مستحکم کرنے کی سا زش کر رہے ہیں،یہودی و صیہونی طاقتیں 14سو سال سے اسلام کے خلاف برسرِ پیکار ہیں 1971 سے آج تک ہم امریکی بحری بیڑے کے منتظر ہیں مگر اسے نہ آنا تھا نہ آیا،کتنے دکھ کی بات ہے کہ ہم مسلمانوں کے جھگڑوں کا فیصلہ وائٹ ہاؤس میں ہو،قطر اور ریاض میں یہودی اور غیرمسلم ہمیں ہمارے تحفظ کی یقین دھانی دلائیں ہم مسلمانوں کے درمیاں فرقہ وارانہ آگ انھیں اسلام دشمنوں کی لگائی ہوئی ہے،یہ ہمارے درمیان انتہاپسند خرید کر شامل کرتے ہیں،ہم اہل تشیع اپنے درمیان غیر ذمہ داروں کی پشت پر نہیں کھڑے اورہماری یہ سوچ ملک کی سلامتی کے پیشِ نظر ہے، دوسری طرف یہ طاقت یہ زبان کچھ لوگوں کو کس نے دی کہ وہ مسلمانوں کے کافر ہونے کے اعلان کریں میں اداروں کو متوجہ کر رہا ہوں کہ اگر کوئی غیر ذمہ دار ہمارے ہاں پایا گیا ہے تو ایسے غیر ذمہ دار دوسری صفوں میں بھی موجود ہیں،آپ ان بنیادوں پر ملک کا ماحول خراب کرنے کی اجازت مت دیجیے۔حکومت ان کی طرف سے ہوشیار رہے،ہمارے ملک میں حضرت ابوطالب ؑ کو کافر کہا گیا جناب فاطمہ زہرا سلام للہ علیہا کی توہین کی گئی مگر ہم نے مشتعل ہو کر ریاست کا قانون ہاتھ میں نہیں لیا،خدا کے واسطے اس فرقہ وارانہ آگ سے ملک کو بچائیں،ان حرکتوں سے آج، یہودی اور اسلام کے مخالف خوش ہو رہے ہیں،انتہا پسند امریکی مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف اب ہمیں کچھ نہیں کرنا ہو گا یہ خود شیعہ سنّی کی تفریق میں دوسرے کا گریبان نوچ رہے ہیں،آج دنیا ایک نازک دور سے گذر رہی ہے ہمیں اپنے ملک اپنے خطے کی بقا کے لئے مل جُل کر رہنا ہوگا۔ہماری مجالس میں نواسہئ رسول ﷺ کی سیرت کا ذکر ہوتا ہے،نواسہ ئ رسولﷺ کی سیرت امن،محبت بھائی چارے کا درس دیتی ہے اور تمام شیعہ سنّی بھائی اس سیرت پر چلنے کے خواہاں ہیں،چند شرپسند عناصر اگر اتحاد کا ماحول خراب کر رہے ہیں ہم سب کو ملکر ان کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں