متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیا

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت صہیونی ریاست کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کا اعلان کر دیا ہے۔

مریکہ، صہیونی ریاست اور متحدہ عرب امارات نے جمعرات کو ایک مشترکہ بیان میں تل ابیب کے ابوظہبی کے ساتھ تعلقات کو دوستانہ قرار دے دیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے: صہیونی ریاست متحدہ عرب امارات کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے بدلے میں فلسطینی سرزمینوں پر مزید قبضہ کرنے کا پروگرام بند کرے گی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ “یہ معاہدہ ایک تاریخی معاہدہ ہے جس سے مشرق وسطی میں امن کو مضبوطی ملے گی۔”
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے کہا ہے کہ آج ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے؛ ہمارے دو عظیم دوستوں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی معاہدہ ہوا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ اسرائیلی اور اماراتی رہنماوں نے اپنے تعلقات کو آشکار کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ گزشتہ ۲۵ سالوں میں سب سے اہم کارنامہ ہے اور امید ہے کہ ائندہ اس طرح کے دیگر واقعات بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ میں اسرائیلی اور اماراتی رہنماؤوں کو ان کی شجاعت کی داد دیتا ہوں۔

خیال رہے کہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین اور عمان کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات حالیہ سالوں میں وقتا فوقتا کھل کر سامنے آتے رہے لیکن آج عرب امارات نے کھلے عام اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کر کے اسرائیل کے منحوس وجود کو تسلیم کر لیا ہے اور فلسطینی کاز کے ساتھ عرب کے عظیم کا کھلا ثبوت پیش کر دیا ہے۔ اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ دیگر عرب ممالک یکے بعد دیگرے صہیونی ریاست کو تسلیم کے لیے قدم بڑھائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں