جرمنی میں کلاسیک میوزک کا مستقبل انتہائی روشن ہے:رسول کوہستانی

فرینکفرٹ(سیّد اقبال حیدر)کرونا وبا نے جہاں دنیا بھر میں بے چینی اداسی کی کیفیت طاری کر رکھی ہے اسی طرح جرمنی میں بھی پاکستانی کیمونٹی کی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی تھیں،ماسک اور درمیانی فاصلے کی قید نے ملنے جلنے کو محدود کر رکھا تھا،اسی ماحول میں پٹیالہ اریانہ شام 84میوزک انسٹی ٹیوٹ نے فرینکفرٹ میں ”شام غزل“ کا اہتمام کر کے ایشین کیمونٹی کی مسکراہٹیں لوٹا دیں،

ایشیا کے کلاسک گائیگی کے معروف نام استاد سلامت علی خان استاد نزاکت علی خان فتح علی خان امانت علی خان کے عزیز استاد محمد سرہنگ کے صاحبزادے استاد شبیر گلو نے اس شامِ غزل میں صوفیانہ کلام کے ساتھ ساتھ جرمنی میں مقیم شعرائے کرام کی غزلیں سنائیں اور خوب داد حاصل کی،پیرس سے آئے یورپ کے معروف طبلہ نواز نشاط قہوہ نے طبلے کی تھاپ سے سامعین کو جھومنے پر مجبور کر دیا، استاد شبیر گلو پچھلے25برس سے ہیمبرگ، جرمنی میں کلاسیک میوزک کا فن جرمن لڑکیوں اور لڑکوں کو سکھا رہے ہیں،اسی سلسلے کی کڑی فرینکفرٹ میں شام غزل کا انعقاد تھا جو پٹیالہ،اریانہ شام84 میوزک انسٹی ٹیوٹ نے کیا،انسٹی ٹیوٹ کے صدر رسول کوہستانی نے نمائیندہ اردو خبریں سے گفتگو میں کہا کہ ان کا تعلق افغانستان سے ہے وہ عرصہ دراز سے جرمنی میں مقیم ہیں مگر وہ جب اپنے پچپن کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو انھیں ماضی کے دریچوں میں شہنشاہ غزل ”مہدی حسن“ شاہِ افغانستان کے مہمان خاص نظر آتے ہیں جن کا بادشاہ وقت کھڑے ہو کر استقبال کرتے تھے،پاکستان کے کلاسیک گلوکاروں نے کلاسیک میوزک کو جس منزل تک پہنچایا کوئی اور اسے چھو بھی نہیں سکتا،

جرمنی میں کلاسیک میوزک کا مستقبل روشن اور تابناک ہے محسنہ کوہستانی کے کہا کہ آج کی شام انتہائی کامیاب تھی استاد شبیر گلو کی کلاسیک میوزک کے لئے جرمنی میں خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،تقریب میں ہائیڈل برگ سے پاکستانی نژاد جرمن سیاست دان وسیم بٹ،ڈاکٹرسرمد لارک،نیشنل بینک آف پاکستان کی جنرل منیجر وقاص عارف کے علاوہ کثیر تعداد میں معزز شائیقین نے شرکت کی،یہ تقریب فرینکفرٹ کے نواح میں ایشین خوش ذائقہ کھانوں کے مرکز”رسلس فلیم“ ریسٹورنٹ رسسلز ہائم میں ہوئی،آکر میں شرکاء کی پُرتکلف کھانوں سے تواضع کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں