سندھ حکومت نے بجلی چوری کے بعض کیسز میں بااثر افراد کی پشت پناہی کی، وزارت توانائی

وفاقی وزارت توانائی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ حکومت بجلی چوروں کے خلاف کارروائیوں میں تعاون نہیں کرتی جبکہ بعص کیسز میں بااثر افراد کی پشت پناہی بھی کی گئی۔

ترجمان وزارت توانائی نے سندھ حکومت کے وزیر توانائی امتیاز شیخ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے مشترکہ ملکی مفادات کو سیاست کی نذر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی نہ تو مفت بنتی ہے اور نہ ہی مفت تقسیم کی جا سکتی ہے، سندھ حکومت نے وفاق کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو جائز اور قانونی معاملات میں کبھی بھی تعاون فراہم نہیں کیا۔

ترجمان وزارت توانائی نے کہا کہ سندھ حکومت کا بجلی چوروں کے خلاف کارروائیوں میں کوئی تعاون دستیاب نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض کیسز میں سندھ حکومت نے بااثر افراد کے خلاف بجلی چوری کی کارروئیوں پر ان کی پشت پناہی کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی آر تک درج کرنے سے روکتی رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی چوری سے ہونے والے نقصانات کی بنیاد پر ہی لوڈ منیجمنٹ کی جاتی ہے، لوڈ مینجمنٹ میں کسی علاقہ، رنگ، نسل یا قومیت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ہمارے سسٹم میں وافر مقدار میں بجلی موجود ہے، آج بھی ہم دعوت دیتے ہیں کہ بجلی چوری ختم کریں اور بلا تعطل بجلی حاصل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ حیسکو اور سیپکو کے بورڈز پر سندھ حکومت کے عہدیدار موجود ہیں، لوڈمنیجمنٹ کی پالیسی اور دیگر امور ان بورڈز کی واضح منظوری سے طے ہوتے ہیں۔

قبل ازیں وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے کے-الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کے سی ای اوز کے علاوہ کے-الیکٹرک سے حکومت اور کے-الیکٹرک کے مابین ہونے والے معاہدے کی نقل بھی طلب کی تھی۔

صوبائی وزیر توانائی نے چیئرمین نیپرا سے بھی رابطہ کیا تھا اور انہیں سندھ آنے کی دعوت دی تھی۔

امتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ سندھ میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے نیپرا اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر توانائی ایوان بالا کو لوڈشیڈنگ کے بارے میں گمراہ کر رہے ہیں جبکہ میڈیا میں وفاقی وزیر توانائی نے پورے ملک میں لوڈشیڈنگ کا اعتراف کیا ہے۔

وزیر توانائی سندھ کا کہنا تھا کہ وفاق اگر لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے تو سیاست کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

خیال رہے کہ کراچی میں بدترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف عوام نے بھرپور احتجاج کیا تھا جبکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے بھی کے-الیکٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

پی پی پی کے 5 اراکین اسمبلی کے توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر توانائی عمر ایوب اور پی پی پی کے سے تعلق رکھنے والے اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے پاکستان پیپلزپارٹی کے اراکین قومی اسمبلی نے وزارت توانائی کی توجہ کے-الیکٹرک کی جانب سے غیرمعمولی اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اور اس حوالے سے فوری کارروائی لینے میں نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی ناکامی کی جانب مبذول کروائی تھی۔

بعد ازاں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا تھا کہ کراچی میں 12 جولائی سے سے غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔

کراچی میں گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسدعمر نے کہا تھا کہ بن قاسم میں ایک سے زیادہ ایندھن سے چلنے والے کے-الیکٹرک کے کچھ یونٹس فرنس آئل سے چلائے جائیں گے، پیٹرولیم ڈویژن نے فرنس آئل کی سپلائی کو بڑھادیا ہے اور ان کے پاس اس وقت پہلے سے زیادہ فرنس آئل آرہا ہے جبکہ اس سپلائی میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے کے-الیکٹرک کو گیس سپلائی میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور فرنس آئل کی سپلائی میں بھی اضافہ کردیا گیا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ان دونوں اقدامات کے بعد کراچی میں کوئی بھی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی، کراچی کی تین چوتھائی آبادی پر مشتمل علاقوں میں پہلے بھی اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی تھی ان علاقوں میں اب وہی سلسلہ بحال کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں