زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے تحریر: سیّد اقبال حیدر

بہار ہندوستان کے افق سے اُگنے والا سورج جس نے عالم اسلام کو علم و ادب کی روشنی باٹی، محبتوں کے اُجالے تقسیم کئے جس کی تقریر سے امن و محبت کے پھول برستے تھے،جس کی شاعری سے محبتوں کے چراغ، اور بھائی چارگی کی شمعیں روشن ہوتی تھیں، وہ سورج کراچی میں ڈوب گیاوہ آفتاب کراچی میں غروب ہو گیا۔ علامہ طالب جوہری 27 اگست 1938، ہند میں بہار اسٹیٹ میں سیوان ضلعے کے ایک چھوٹے سے گاؤں حسین گنج کے مذہبی، علمی گھرانے کے معروف، عالم دین علامہ مصطفی جوہر کے ہاں پیدا ہوئے اور اپنی زندگی کی تقریباً8 دہائیاں گذار کے21 جون2020 کو پاکستان کے شہر کراچی میں انتقال فرما گئے،علامہ طالب جوہری کو ”تھے“ اور”مرحوم“ کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آرہا ہے علامہ طالب جوہری کے انتقالِ پُر ملال کی خبر نے کروڑوں آنکھوں کو نَم کر دیا۔ علامہ صاحب کی رحلت اس صدی کا،ناقابلِ تلافی نقصان ہے یا، اس صدی کے ناقابلِ تلافی نقصانات میں سے ایک ہے آپ نہائیت درجے کے خوش مزاج، ملنسار،اور علم کا اعتبار تھے دور حاضر میں مدلل قرآن و تفسیر،مستحکم خطابت،اور علمی خدمات کے حوالے سے برِّ صغیر میں مرحوم کا کوئی بدل دکھائی نہیں دیتا۔
خطابت کی جس میراث کے آپ امین تھے اب اس کا کوئی ہم پلّہ نہیں ہے، آپ کو قرآن سے عشق تھا، آپ قرآنیات کے ماہر تھے آپ احادیث کے بجائے اپنی تقاریر کو قرآنی آیات سے آراستہ فرماتے تھے یہی وجہ تھی کہ آپ کے خطاب سے عوام الناس کو قرآن کی معرفت ملتی تھی آپ کو عربی و فارسی پر یکساں عبور تھا، عرب اور فارس کی تاریخ کے ساتھ ساتھ عربی اورفارسی کی شاعری پر بھی آپ کی گہری نظر تھی۔
آپ کی مقبولیت اور دینی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے آپ کوستارہ ء امتیاز سے نوازا تھا۔آپ بہت سی کتابوں کے مصنف اور خطابت کے ایک نئے انداز کے موجد تھے آپ نے خطابت کو نئی چاشنی دی، تقریر کے حصاروں سے نکل کے اور اگر اور آگے جایا جائے تو آپ کی شاعری اور غزلوں کے مجموعے بھی منظر عام پر آچکے ہیں،اگر کوئی پڑھا لکھا آدمی،کوئی عالم شاعری کا ذوق نہیں رکھتا تو پھر وہ ایک اچھا واعظ تو ہو سکتا ہے اچھا خطیب نہیں ہو سکتا اس لئے کہ شاعرانہ مزاج ہماری گفتگو میں لطافت اور اس کے حسن میں اضافہ کرتا ہے۔
پاکستان ٹیلی ویژن نے سن 80 کی دھائی میں تفہیم القرآن کے نام سے سلسلہ وار پروگرام کیا جس میں علامہ طالب جوہری قرآن کی تفسیر اس خوبصورت انداز میں فرماتے تھے کہ تمام مکاتب فکر سنی شیعہ اہلحدیث کاہر چھوٹا بڑا،کم علم اور عالم اس سے استفادہ حاصل کرتا تھا آپ قرآن کی کسی ایک آیت کا ترجمہ شان نزول،،تفسیر منطق اورتاریخی پس منظر میں ایسا بیان کرتے کے ذہنوں میں نقش ہو جاتا، آپ کم الفاظ میں تفسیرِ قرآن اور تاریخ،بیان کرنے پر قدرت رکھتے تھے، علامہ طالب جوہری مرحوم مسلمانوں کے تمام فرقوں میں یکساں مقبولیت کے حامل تھے آپ کی شخصیت متنازہ نہیں تھی۔ آپ وحدتِ امّت کے علبردار تھے آپ کی مجالس و محافل کی پہلی صفوں میں کثیر تعداد میں اہلسنت اور دیگر مکاتب فکر کے افراد نظر آتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں