خواب غفلت

از :افتخاراحمد جرمنی

امریکن بلاگر حسینہ سنتھیارچی کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین پر ہراسمینٹ کے الزام پر شور مچانے والوں کو یاد کروا دوں کہ ایک ایسے ہی واقعے کی ویڈیو نیب کے بزرگ چئیرمین ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال کی سامنے آئی تھی جس میں موصوف ایک سائلہ خوبصورت خاتون جو شاید کسی فوجی افسر کی اہلیہ تھی ملنے ان کے دفتر آئی تو موصوف نے جس بے تابی سے انداز عاشقانہ اپناتے ہوئے اسے سر سے پاوں تک چومنے کا اظہار کیا تھا کیا وہ ہراسمینٹ کے زمرے میں نہیں آتا ؟
ایک امریکن حسینہ کی ہراسمینٹ پر شور اور اپنی مسلمان بہن کی ہراسمینٹ پر خاموشی کیا یہ شرمناک رویہ نہیں؟
اتنی ہائی پروفائل شخصیت کا یہ گھٹیا انداز کسی بھی دوسرے ملک میں سامنے آتا تو نہ صرف اسی وقت استعفی دینے پر مجبور کیا جاتا بلکہ اب تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا مگر نہ تو ” قوم ” کی غیرت جاگی اور نہ ہی کسی بابا رحمتے نے اس غلیظ حرکت کا نوٹس لیا صرف اتنا سامنے آیا کہ جو رنگیلا چئیرمین نیب اس سے قبل اپوزیشن پر ہولا ہاتھ رکھے ہوئے تھا اس کے بعد ایسا حرکت میں آیا کہ اپوزیشن راہنماؤں سے نیب کے حراستی مرکز بھر گئے یہ الگ بات کہ مقدمہ کسی پر بھی قائم نہ ہو سکا اور نہ کسی کو سزا دلوائی جا سکی ۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ جن حکمرانوں نے اپنی قوموں کو انصاف فراہم نہ کیا نہ وہ قومیں زندہ رہیں نہ حکمران ۔اگر ایسے میں کوئی پاکستان کی ترقی کے خواب دیکھتا ہے تو اسے خواب غفلت سے بیدار ہو جانا چاہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں