کسی مقدمہ میں ضمانت ہونا، کیس کا منطقی انجام نہیں ہوتا، چیئرمین نیب جاوید اقبال

چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ آج پوری قوم کی آواز ہے۔ بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ کسی مقدمہ میں ضمانت ہونا، مقدمے کا منطقی انجام نہیں ہوتا۔

تفصیل کے مطابق ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے چئیرمین نیب پُرعزم ہیں۔ اس وقت 900 ارب روپے سے زائد کے 1229 کرپشن ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر ہیں۔ عوام اور اداروں نے نیب کی کارکردگی پر اظہار اطمینان کیا ہے۔

نیب کی جانب جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چئیرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے منصب سنبھالنے کے بعد پنجاب کی 56 کمپنیوں میں کرپشن، آٹا، چینی سکینڈلز، ادویات کی قیمتوں میں اضافے اور جعلی ہاؤسنگ سوسائٹییز سمیت بڑے کرپشن کیسز کا نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دیا۔ کرپشن کے خلاف کھلی کچہریاں لگا کر 3500 شکایات پر فوری ازالہ کیا گیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے نیب کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اصلاحات متعارف کروائیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، پلڈاٹ اور ورلڈ اکنامک فورم نے بھی قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کو سراہا۔

چئیرمین نیب نے کہا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ آج پوری قوم کی آواز ہے۔ بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ کسی مقدمہ میں ضمانت ہونا، مقدمے کا منطقی انجام نہیں ہوتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں