ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا آغاز، پاکستان کی شدید مذمت

پاکستان نے کہا ہے کہ آج کا بھارت آر ایس ایس اور بی جے پی کے انتہا پسندی پر مبنی نظریے اور ہندوؤں کی بالا دستی قائم کرنے کے عزائم کے زہریلے مجموعے کے زیرِ اثر ہے۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے ایک بیان میں بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کے کام کے آغاز کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کورونا وائرس کی مہلک عالمی وبا سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، بھارت میں آر ایس ایس اور بی جے پی گٹھ جوڑ ہندو توا ایجنڈے کو بے رحمی سے آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایودھیا میں گزشتہ روز تاریخی بابری مسجد کے مقام پر ایک مندر کے تعمیراتی کام کا آغاز اس سمت میں ایک اور قدم ہے اور پاکستان کے عوام اور حکومت اس اقدام کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بابری مسجد کی جگہ مندر کا قیام بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے متنازع فیصلے کا تسلسل ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے نے بھارت کے جھوٹے سیکولرازم کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ فیصلے نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ بھارت اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نے ایک اور بیان میں اس ماہ کی بیس تاریخ کو اقوام متحدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے سفیروں کے ورچوئل اجلاس سے متعلق ذرائع کی غلط اور من گھڑت اطلاعات کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بے بنیاد اطلاعات سب سے پہلے بھارتی ذرائع ابلاغ نے دیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے اجلاس کے دوران بھارت میں آر ایس ایس کے نظریے کی حامل بی جے پی کی حکومت کے تحت اسلام مخالف پروپیگنڈے اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے پُرتشدد واقعات کو جو خطر ناک حد تک بڑھ گئے ہیں اُجاگر کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں