عالمی یوم قدس پرسید حسن نصر اللہ کا تاریخی خطاب، فلسطینیوں کو آزادی کا نسخہ دیا

حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی نابودی تو یقینی ہے تاہم حقیقی جنگ تو امریکا سے ہے۔

عالمی یوم قدس کی مناسبت پر سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ غاصب صیہونی حکومت، کینسر کے پھوڑے کی طرح ہے جو مٹ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سمندر سے لے کر یعنی بحیرہ روم سے دریائے اردن تک کا علاقہ فلسطین ہے جسے فلسطینیوں کو دیا جانا چاہئے۔

حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ فلسطین کی آزادی کا راستہ مسلحانہ جد و جہد ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ کوئی بھی دوسرا راستہ وقت کی بربادی کرنے جیسا ہے۔

سید حسن نصر اللہ کے مطابق فلسطینی ظاہری طور پر اسرائیل کے خلاف بر سر پیکار ہیں تاہم اصل مقابلہ تو امریکا سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عشروں کے دوران علاقے میں جنگ اس لئے شروع کرائی گئی تاکہ علاقے میں طاقت کا توازن اسرائیل کے حق میں قائم رہے۔

سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ ایران پر مسلط کردہ جنگ اور موجودہ وقت میں یمن پر سعودی عرب کا حملہ، یہ سب اسی پالیسی کا حصہ ہیں۔

حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے اسلامی مزاحمتی محاذ میں ایران کو مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی سبب ہے کہ امریکا کے ہر اقدامات کا شکار ایران ہی ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمتی محاذ ڈٹا رہے گا اور اس کو زیادہ طاقتور بنانے کا عمل جاری رہے گا۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کے مطابق اسرائیل اس عمل کو کسی بھی صورت میں یمن، شام، عراق اور لبنان، کہیں بھی روک نہیں پائے گا۔

سید حسن نصر اللہ نے کچھ رجعت پسند عربوں کی جانب سے صیہونی حکومت سے تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کی مذمت کی اور کہا کہ یہ راستہ کبھی مشخص نہیں ہو پائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں