جرمنی کے لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کا اعلان

جرمن قوم نے اس عالمی وبا کروناکا حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے نہایت بہادری اور ذمہ داری سے مقابلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں جرمنی میں جانی نقصانات یورپ کے دوسرے ممالک کی نسبت کم ہوئے ہیں،جرمنی کرونا کے متاثرین کی لسٹ میں پانچویں نمبر سے ساتویں پر آگیا ہے

فرینکفرٹ(سیّد اقبال حیدر)جرمن چانسلر اینجلا میرکل نے قوم سے خطاب میں جرمنی میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جرمن قوم نے اس عالمی وبا کروناکا حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے نہایت بہادری اور ذمہ داری سے مقابلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں جرمنی میں جانی نقصانات یورپ کے دوسرے ممالک کی نسبت کم ہوئے ہیں،جرمنی کرونا کے متاثرین کی لسٹ میں پانچویں نمبر سے ساتویں پر آگیا ہے،تاہم اعداد و شمار کے مطابق 1,66,091 کرونامتاثرین میں سے 1,41,700 اب تک صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 7,119 اموات ہوئیں،اموات کے تناسب میں کمی میں بھی جرمنی خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے،جس کی وجہ جرمنی کا جاندار اور مؤثر ہیلتھ کا نظام ہے،جرمنی نے اپنے متاثرین کے علاوہ اٹلی اور فرانس سے مریض جرمنی لا کر ان کا کامیابی سے علاج کیا،اب جرمنی میں کرونا کے اثرات کم ہو کر بہتری کے نتائج سامنے آنے کے بعد جرمن حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان ایک جامع منصوبے کے تحت کیا ہے،ملک بھر میں ماسک اور ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ اسٹورز اور سپر مارکیٹس میں لازمی ہوگا،ملک میں 16 ریاستیں اپنے صحت کے نظام کی منصوبہ بندی کے تحت اپنی اپنی ریاستوں میں مقامی طور پر نرمی و سختی کرنے مجاز ہونگے،یاد رہے کہ جرمنی میں بھی مختلف ریاستوں میں کرونا کے مختلف اثرات اور اعدادوشمار دیکھنے میں آئے ہیں،کچھ طلباء کے اسکول کھول دئے گئے اور کچھ درجہ بہ درجہ ماہ مئی میں کھول دئے جائیں گے مگر کلاس رومز میں طلباء کی تعداد اور کلاس روم میں درمیانی فاصلے کا سختی سے خیال رکھا جائے گا،کاروباری مراکز اور مذہبی مقاات میں بھی نرمی کا اعلان کرتے ہوئے جرمن چانسلر نے کہا کہ کرونا ابھی مستقبل قریب میں ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا اس لئے ہمیں احتیاتی تدابیر کے ساتھ اس سے بچاؤ کے انتظامات پر سختی سے عمل کریں گے تو ملک کو درپیش صحت اور معاشی مسائل سے بچانے میں کامیاب ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں