کورونا وائرس، بھارت میں مسلمانوں سے شرمناک سلوک

ذرائٰع کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہندوانتہا پسند کورونا وائرس کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور لوگوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، بھارت میں کورونا کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی پھیلانے اور امتیازی سلوک برتنے پر شدید انداز میں تنقید کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں شمال مغربی دہلی کے کنارے واقع گاؤں ہریالی کے رہائشی 22 سالہ مسلم نوجوان محبوب علی کو انتہا پسند ہندوؤں کے ایک گروپ نے بے رحمی سے لاٹھیوں اور جوتوں سے مارا یہاں تک کہ وہ شدید زخمی ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ علی حال ہی میں ایک مذہبی اجتماع سے واپس آیا تھا اور انتہا پسند ہندوؤں کے اس ہجوم نے علی پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک بھر میں ہندوؤں میں کورونا وائرس پھیلانے کوشش کررہا ہے!!!!!!!۔ لہذٰا علی پر حملہ کرنے والوں کا خیال تھا کہ اسے سزا ملنی چاہئے اور یہی وجہ ہے کہ اس نوجوان کو ہجوم نے نہایت بے رحمی سے مارا۔

خیال رہے کہ کچھ انتہا پسند تکفیری سوچ رکھنے والوں نے پاکستان میں زائرین امام حسین علیہ السلام کے خلاف بھی اس قسم کے منفی تبلیغات کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے۔

جب دنیا مشترکہ دشمن (کورونا وائرس) کے خلاف لڑنے کے لیے متحد ہورہی ہے بعض شرپسند وبائی بیماری کو نفرت پھیلانے اور لوگوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں