بے جان او آئی سی… میں زندگی کے آثار

تحریر: سیّد اقبال حیدر

دنیا کی سپر پاور امریکہ کی سرزمین پرنائن الیون کے خودساختہ سانحے کے بعد اسلامی ممالک تنہائی مشکلات اور بے بسی کی کیفیت میں تھے افغانستان،لیبیا،شام،ایران،عراق،پاکستان شائید ہی کوئی اسلامی ملک بچا ہو جس نے نائن الیون واقعے کی پاداش میں امریکہ بہادر کو کسی نہ کسی بہانے سے جان، مال، انا کاخراج نہ ادا کیا ہواسلامی ممالک میں بسنے والے مسلمان 58 اسلامی ممالک پر مشتمل”او آئی سی“ تنظیم کی طرف امید بھری آس لگاتے کہ شائد کبھی ہم مسلمانوں کی یہ تنظیم مسلمان ممالک میں ہونے والے مظالم پر آواز اٹھائے گی مگر ہمیشہ مایوسی ہوتی،لیبا،عراق،شام،یمن تباہ و برباد ہو کر رہ گیا،عراق نے کویت پر یلغار کردی،ایران عراق جنگ ہوئی،یمنی سعودی ایک دوسرے پر بم برسا رہے ہیں، ایران،ترکی،پاکستان،افغانستان تباہی اور مفلسی کے دھانے پر کھڑے ہیں مگر او آئی سی مطمئن ہے،کشمیر میں ہندوستانی مظالم انتہا کو چھو رہے ہیں جوان بچوں کا اغوا،معصوم بچیوں عزت کی پامالی پر مہاتیر محمد صدر اردگان،صدر روحانی عمران خان کی دبی دبی سسکیاں بھی او آئی سی کو نہیں سنائی دیں،مگر جس طرح مودی کے شہریت بل نے اس کے اپنے ہندوستانی عوام کو کشمیریوں کے حق میں کھڑا کر دیا تھا اسی طرح اسی طرز پر صدر ٹرمپ کے امن منصوبے”صدی کی ڈیل“نے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے والے عرب ممالک نے بھی اس کے نو مولود امن منصوبے کی مخالفت کر ڈالی،جدہ میں ہونے والے او آئی سی کے اجلاس میں صدر ٹرمپ کے پیش کردہ یک طرفہ منصوبے کو اکثریت یہ کہہ کر نے مسترد کر دیا کہ یہ منصوبہ فلسطینیوں کے امنگوں کی ترجمانی نہیں کرتامنصوبے میں وادی اردن سمیت دریائے اردن کے مغربی کنارے کا اکثر علاقہ اسرئیلی ریاست میں ملانے،بیت المقدس کو اسرائیل کے سپرد کرنے،اور فلسطینیوں کو مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض حصوں اور مشرقی یروشلم پر خود مختاری دینے جبکہ اسرائیل اپنی تمام یہودی بستیوں کو اپنی ریاست میں شامل کرنے اور مغربی اور مشرقی القدس پر بھی اپنا قبضہ کر سکے گا، عرب لیگ نے صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔دراصل صدر ٹرمپ کا یہ منصوبہ اسرائیل ہی کی ایک سازش ہے جس کا مقصد دو ریاستی حل کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا اور فلسطینی علاقوں کو اسرائیل کے حوالے کرنا ہے،صدر ٹرمپ پہلے ہی یروشلم کو اسرائیل کا غیر منقسم دارلحکومت تسلیم کر چکے ہیں،صدر ٹرمپ کے اس اقدام سے مشرق وسطیٰ میں بدامنی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے فلسطین،ترکی، ایران اس منصوبے کو پہلے ہی مسترد کر چکے تھے،ایران کو او آئی سی کے حالیہ اجلاس میں دعوت نہیں دی گئی مگر پھر بھی57 ممالک نے امریکی منصوبے کو مسترد کر کے بے جان…او آئی سی.. میں جان ڈال دی کاش امت مسلمہ کی یہ تنظیم مغرب کے مفادات کو چھوڑ کر مسلمانوں کے مفادات اور سلامتی کے لئے متحرک ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں