بھٹو کی پھانسی کے بعد دوسرا شرمناک عدالتی فیصلہ

تحریر: سیّد اقبال حیدر

جسٹس نسیم شاہ نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنا کر عدلیہ کے منہ پر سیاہی مل دی تھی،اسی عدلیہ پر مختلف ادوار میں نشیب و فراز آتے رہے،پھر ایک روز ایک جج صاحب کی آوڈیو سننے کو ملی جو اپنے آقا شہباز شریف کو گڑگڑا کے کہہ رہے تھے ”میرے آقا اتنی سزا دے دوں تو آپ خوش ہیں“ایک باریش جج صاحب جن کے سر پر نواز شریف صاحب نے ”صدارت“ کا تاج بھی رکھا تھا وہ نوٹوں بھرا بریف کیس لیکر ایک چیف جسٹس کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے مگر اس چیف جسٹس نے وہ دولت حقارت سے ٹھکرا دی،نتیجے میں سپریم کورٹ پر چڑھائی ہوئی،پچھلے چیف جسٹس صاحب جو آلو مولی کی قیمتوں پر بھی سوموٹو ایکشن لیتے رہے، ڈیم بناتے رہے مگر اپنے عدالتی افراد خانہ”وکیلوں کی غنڈہ گردی“ نہ روک سکے۔آج رخصت ہونے والے آصف کھوسہ صاحب کی نظر بھی سیسلین مافیہ کو تاڑ گئی مگر لاہور پبلک کے ہجوم میں ایک شہری کو مادر زاد ننگی گالیاں اور تماچے مارنے والی”خاتون نما“ وکیل نظر نہیں آئی،کھوسہ صاحب کو عدالت میں جج صاحب کا گریبان کھنچنے والے اور کچہری کے احاطے میں سائیلوں کی پٹائی کرنے والے وکیل بھی کبھی نظر نہیں آئے اور نہ کھوسہ صاحب نے ان غنڈے وکیلوں کی شان میں کبھی کوئی غالب یا فیض کا کوئی مصرعہ گنگنایا،جب سے عمرانی اقتدار نمودار ہوا سابقہ حکمرانوں اور ان کے نمک خوار بیوروکریٹس نے قسم کھا لی کہ ان ناتجربہ کار عمرانیوں کے قدم نہیں جمنے دیں گے،پہلی قومی اسمبلی کے اجلاس میں وہ طوفان بدتمیزی دیکھنے کے ملی کہ سر شرم سے جھک گیا اور اس اقتدار کی کھنچاتانی کا سلسلہ آج تک چل رہا ہے،NRO نہیں دونگا کی تکرار بھی ہے اور جنہیں چور ڈاکو،سسلین مافیہ کے القاب ملے وہ حیلے بہانوں سے پتلی گلی سے نکل بھی رہے ہیں،زرداری،خورشید شاہ اب کھلی فضا میں لمبے لمبے سانس لے رہے ہیں نواز شریف،شہباز شریف چھپ چھپ کر لندن میں مرچ مسالہ ریسٹورنٹ کے کھانوں کا لطف اٹھا رہے ہیں،ہر روز ٹی وی کھولیں تو نیا دھماکہ سننے کو ملتا ہے،اب کل آرٹیکل 209 کی آڑ میں جسٹس وقار سیٹھ نے جسٹس نسیم شاہ کے قدموں کے نشانوں پر چلتے ہوئے پرویز مشرف کو ۵ بار سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا یہی نہیں یہ بھی فرما دیا کہ وہ اپنی بیماری کے باعث اگر مر جائیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک پر تین روز تک لٹکایا جائے،اس غیر اسلامی،غیرآئینی،ٖغیر انسانی فیصلے پر پرویز مشرف کے ازلی دشمنوں نے بھی ”تھو تھو“کیاہے مگر اب لکیر کو پیٹنے سے کیا ہوگاسپریم جوڈیشنل کونسل یا سپریم کورٹ اس فیصلے کو غلط قرار دے بھی دیں تو کیا ہوگا دنیا بھر میں پاکستان عدلیہ کی شرمناک تشہیر تو ہو گئی، جسٹس وقار سیٹھ صاحب نے آج ایک وکیل کے سوال کے جواب میں کہا کہ انھوں نے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں سنا کیونکہ وہ ٹی وی پر ماسوائے ”ریسلنگ“ کے اور کچھ نہیں دیکھتے یعنی ملکی صورتحال،عوامی مسائل،دنیا کو درپیش مسائل سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں ہاں…..ریسلنگ..ضرور دیکھنا ہے،ریسلنگ کے ایک پُرتشدد نورا کشتی ہے جسے زیادہ طور پر تشدد پسند شائقین پسند کرتے ہیں،امریکی صدر ٹرمپ بھی ریسلنگ کے اکھاڑوں میں ہاتھا پائی کرتے کبھی نظر آتے تھے،جسٹس وقار سیٹھ کے فیصلے اور لاش کو تین روز لٹکانے کا سن کر مجھے 14 سو سال پہلے کے ظالم حکمران یاد آگئے جنہوں نے صحابی رسول ﷺ میثم تمار کی پہلے زبان قطع کی اور پھر انھیں شہید کیا اور پھرسولی پر لٹکایا،مجھے آج کے دائش بھی جسٹس وقار سیٹھ کے قبیلے کے لگے جنہوں نے سیریا، افغانستان میں بے گناہوں کو شہید کر کے درختوں پر لٹکادیا تھا۔چیف جسٹس افتخار چوہدری تو اپنے ہونہار سپوت کمائی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں مگر ان کی لگائی کھیتی میں..غنڈے وکلاء عدالتوں کی چاردیواریوں میں اور دماغی مریض جج عدالتوں کے اندر لوگوں کی لاشوں کو لٹکانے میں سرگرم عمل ہیں پاک فوج اور موجودہ نا تجربہ کار حکومت کا بڑا امتحان ہے کہ وہ پڑوسی ملک کے مودی اور ملک کے اندر مودیوں سے کس طرح نپٹتے ہیں،ہم دیار غیر میں رہنے والے تو ان حالات میں کڑھنے اور وطن عزیز کے لئے دعا کے علاوہ کیا کر سکتے ہیں،پروردگار عالم وطن عزیز کو آج کی میر جعفر اور میرصادق سے نجات دلا۔ آمین سیّد اقبال حیدر(فرینکفرٹ۔جرمنی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں