حلقہ ارباب ذوق جرمنی کی طرف سے کتاب کی پذیرائی اور مشاعرے کا اہتمام

حلقہ ارباب ذوق جرمنی نے معروف مصنفہ ہمافلک صاحبہ کی افسانوں پرمشتمل کتاب ” روح دیکھی ہے کبھی کی تقریب پذیرائی اور مشاعرے کا اہتمام کیا۔

تلاوت قران حکیم کے بعد پروگرام کے پہلے حصے کا باقاعدہ آغاز احمد مستجاب عارفی صاحب ، وحید قمر صاحب، رفیق احمد بٹ اور حیدر قریشی صاحب کو سٹیج پر دعوت دے کر کیا گیا۔
اور آخر پر ہمافلک صاحبہ کو اس پروگرام کی خصوصی نشست سنبھالنے کے لئے خوش آمدید کہا گیا۔
احمد مستجاب عارفی نے حلقہ کی نمائندگی کرتے ہوئے بڑے دلفریب انداز میں مکالماتی اور افسانوی رنگ میں ہما فلک صاحبہ کی کتاب کے کم وبیش تمام افسانوں کے نقطہ نظر کو بہت ہنر مندی سے بیان کیا ۔
اس کے بعد وحید قمر صاحب نے مصنفہ کی کتاب پر پر مغز اور سیر حاصل گفتگو کی ۔
خصوصیت کے ساتھ ان کے افسانہ روح دیکھی ہے کبھی؟ ، تلاش اور اگر کے مطمع نظر کو سامعین پر بڑی خوبصورتی سے واضح کیا ۔


دنیائے ادب کے نہائت معتبر نام جناب حیدر قریشی نے انتہائی مدلل ، مختصر مگر جامع اور بے لاگ انداز میں مصنفہ کی کتاب کو خراج تحسین پیش کیا۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے برملا اس بات کا اظہار فرمایا کہ ہمافلک کی آواز خواتین لکھاریوں میں عمومی روایت سے بہت ہٹ کر ہے ان کی آواز طاقت اور توانائی سے بھرپور ہے ۔اور بلاشک وشبہ وہ بڑی کامیابی کے ساتھ نوجوان خواتین لکھاریوں میں نہ صرف اعلی مقام حاصل کر رہی ہیں بلکہ انہوں نے برملا اظہار کیا کہ ہما فلک صاحبہ کی طرز پر لکھنا آج کی خواتین رائٹرز کے لئے ایک چیلنج بھی ھے ۔


 ہمافلک صاحبہ نے اپنی گفتگو میں دل کی گہرائیوں سے اس شاندار پروگرام کے انعقاد پر حلقے کا ،مضامین لکھنے والے احباب کا اور حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے بڑی باریک بینی اور دل چسپ انداز میں اپنی کتاب کے کچھ افسانوں پر بات کی، ان کے محرکات پر روشنی ڈالی اور اس خواہش کا برملا اظہار کیا کہ اگر ان کے لکھے گئے افسانوں میں چھپا ہوا پیغام پڑھ کر ایک انسان بھی اپنی سوچ کا زاویہ منفی سے مثبت روش پر لے آئے تو ان کی محنت کا ثمر انہیں مل جائے گا ۔
ان کے خطاب کے بعد حلقہ ارباب ذوق جرمنی نےحسب روایت اردو ادب کے فروغ اور ترویج و ترقی کے لئے کام کرنے والے ادبا کی خدمت میں اسناد امتیاز پیش کیں۔ اس موقع پر حلقہ ارباب ذوق جرمنی کی نمائندگی نائب صدر رفیق احمد صاحب کر رہے تھے ۔ حیدر قریشی صاحب کو پہلی سند امتیاز آپ نے پیش کی اور باقی اسناد حیدر قریشی صاحب نے پیش فرمائیں۔


آج کے مشاعرہ میں شعرائے کرام کی تعداد بہت حوصلہ افزا تھی ۔ اور جن شعرائے کرام نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ فرمایا ان کے نام فہمیدہ مسرت ، فرزانہ ناہید، ظہور احمد ، لئیق احمد، اسحق اطہر، افضل قنبر عارفی، پنجند پنجابی ادبی تنظیم جرمنی کے صدر امجد عارفی صاحب ہیں ۔ اس کے بعد خوبصورت لب و لہجے کے شاعر طاہر عدیم صاحب نے اپنا تازہ کلام سنا کر بہت ساری داد وصول کی۔ ادبی دنیا کے بہت خوبصورت اور انسان دوست مدبر آسان نے بہت نپا تلا کلام پیش کیا اور سامعین کرام کے دلوں کو مسلسل گرماتے رہے ۔
انگلینڈ سے تشریف لائے ہوئے مہمان خصوصی جناب ساجد محمود رانا ڈائس پر تشریف لائے اور اپنے بہت توانا ،اچھوتے اور معتبر کلام سے داد سخن سمیٹی ۔
ان کا کلام دل کو چھو لینے کے ساتھ ساتھ ذہن کو دعوت فکر بھی دیتا رہا ۔
آپ نے حلقہ ارباب ذوق جرمنی کے تمام عہدے داران ، حیدر قریشی صاحب اور محترمہ ہمافلک صاحبہ کی ادب سے وابستہ محبت اور لگاو کے اعتراف میں اپنی شاعری کی کتابیں تحفتا” پیش کیں ۔
اس دوران پنجند پنجابی ادبی تنظیم کے صدر امجد عارفی اور جنرل سیکریریٹری قنبر عارفی نے انتہائی خوبصورت پھولوں کا تحفہ محترمہ ہما فلک صاحبہ کو پیش فرمایا ۔
محفل کے دوران اردو نثری ادب کے حوالے سے قائم ہونے والی تنظیم “ادراک” کے بارے میں بتایا گیا کہ تنظیم کےتنظیمی ڈھانچے سے بہت جلد احباب کو مطلع کر دیا جائے گا ۔
مشاعرے کے آخری شاعر حیدر قریشی صاحب کرسی صدارت سے ڈائس پر تشریف لائے اور وقت کی کمی کے باعث بہت مختصر مگر جامع کلام پر انحصار کرتے ہوئے آپ نے سامعین سے داد سخن وصول کی ۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں