آج کے مسلمان اور حقوق العباد

تحریر:شیخ فدا علی ذیشان
(سکریٹری جنرل مجلس وحدت المسلمین ضلع سکردو)

پاکستان کے مختلف علاقوں اوربڑے بڑے شہروں میں جانے اوربہت سارے اسلامی ممالک میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔کچھ اسلامی ممالک بہت دولت مند ہونے کے باوجود’تیل کی دولت سے مالامال ہونے کے باوجود ‘ قدرتی وسائل کی فراوانی کے باوجوداور زرخیز زمین اورکثیر المقاصد اسباب کے باوجودخط غربت کی لکیرسے نیچے ذندگی گزارنے پے مجبورہیں اوران ممالک میں یورپ والے جاتے ہیں اوران کو ہیومن رائٹس(حقوق بشر) پے درس دیتے ہیں۔تعجب میں تب اضافہ ہوجاتاہے جب یہ لوگ ان مسلمانوں کوحقوقِ بشر کاسبق سیکھاتے نظراتے ہیں جن مسلمانوں کواسلام نے چودہ سوسال پہلے ہی سب سے ذیادہ حقوق کاسبق سیکھایا تھا اور حقوق درس پڑھایا تھا۔دکھ توان مسلمانوں پر ہوتاہے جو ان کی مفاد پرستانہ باتوں سے یا متاثر ہوتے ہیں یاپھر ذاتی مفاداور شارٹ راستے سے امیر ہونے کی فکرمیں ان کے لئے استعمال ہوتے ہیں اوراپنی ساری انرجی ان این جی اوزکی کامیابی اورعلاقے کی غلامی کے لئے بالواسطہ یابلاواسطہ دن رات کام کرتے ہیں۔

حقیقت ہی ہے کہ اسلام نے ہمیں حقوق کاجوتصور دیا ہے ایساتصورنہ کوئی دے سکاہے نہ دے سکتاہے۔ لھذا حقیقی مسلم وہی ہے جوحقوق ادا کرتا ہو۔ یہاں تک کہاگیاہے کہ ایک انسان کی نسبت دوسرے انسان پرتیس قسم کے حقوق عائدہوتے ہیں۔ایک مسلم کی نسبت ایک مسلم پرتیس قسم کےحقوق عائدہوتے ہیں جومسلم ان حقوق کواداکرتا ہووہی مسلم ہے اورجوان حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کوتاہو وہ مسلم نہیں ہے ۔اس کامطلب یہ ہواکہ اسلام سراپاحقوق کانام ہے ۔اورجوسبق حقوقِ بشرکا اسلام نے سیکھایاہے ایساسبق دنیاکاکوئی مذہب دے نہیں سکتا ہے ۔اج جوانوں کوبیدارہونے کی ضرورت ہے کہ جوانوں کولایعنی اورغیرمنطقی(بظاہردلکش حقیقت میں گمراہ کن) باتوں کے ذریعے سے گمراہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے کہ کہاجاتاہے دین نے ہمیں کیادیاہے؟مذہب ہی سب سے بڑی رکاوت ہے ترقی کے لئے وغیرہ وغیرہ۔

اگرباریک بینی سے دیکھاجائے تویہ باتیں یاتواستعمارکی ہیں یا ان نام نہاد لوگوں کی ہیں جن کی ذندگی کاایک اہم دورانیہ لہو لعب میں گزرتاہے اوران کادل گناہوں کی وجہ سے مکمل سیاہ ہوجاتاہے۔وگرنہ جوکچھ دیاہے وہ دین نے ہی دیاہے۔اج معاشرے میں حیاہے’امن ہے’محرم اور نامحرم میں تمیزہے ‘جرائم نہ ہونے کے برابر ہے اورایک دوسرے کااحترام ہے تودین ہی کی وجہ سے ہے۔ لھذا دین ہی نے حقوق انسانی کاتصورچودہ سوسال پہلے دیاہے یہ کسی مغرب کادیاہواتحفہ نہیں ہے ۔اسی وجہ سے حقوق کو دو حصوں میں تقسیم کیاجاتاہے; پہلاحقوق اللہ اوردوسراحقوق العباد/حقوق الناس ۔حقوق اللہ فرض ہیں اورحقوق الناس قرض ہیں ۔فرض شناس ہی قرض شناس ہوتاہے ‘فرض اداکرنے والاہی قرض اداکرتاہے ۔ پھرحقوق العباد کی ایک لمبی فہرست ہے منجملہ :یہ ہیں حقوق والدین’اولادکے حقوق’حقوق زوجین’رشتہ داروں کے حقوق’ہمسایہ کے حقوق’استاد کے حقوق ‘طالب علم اورغیرمسلم کے حقوق۔
بلکی ہرانسان کی نسبت ہرانسان پرکوئی نہ کوئی حق عائدہوتاہے ہے۔جس کے دائرہ اختیارمیں جو آتا ہے اس کی نسبت سے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں۔ مثلاحاکم کے حقوق رعایاکی نسبت حقوق اوررعایاکے حقوق حاکم کی نسبت۔اوراگریہ نسبت خاص مدت کے لئے قائم ہوجائے مثلا ایک مسافرکے ساتھ چندلمحوں کے لئے صحبت ہوتوبھی حق عائد ہوتاہے۔جس کی تفصیل کتابوں میں موجود ہے یہاں ایک کتابچہ کاذکرضرورکروں گاجس کورسالۃ الحقوق کہاجاتاہے اوروہ امام زین العابدین ع کاہے جس میں امام ع نے بہت سارے لوگوں کاحق بیان فرمایا ہیں:اعلم ان اللہ عزوجل علیک حقوقامحیطۃ لک فی کل حرکۃ تحرکتھااوسکنۃ سکنتھااوجال حلتھااومنزلۃ نزلتھااوجارحۃ قلبتھا او الۃ تصرفت فیھافاکبرحقوق اللہ تبارک وتعالی علیک مااوجب علیک لنفسہ من حقہ الذی ھواصل الحقوق ثم مااوجب اللہ علیک لنفسک من قرنک الی قدمک فاما حق اللہ الاکبرعلیک فان تعبدہ ولاتشرک بہ شیئا اذا فعلت بلاخلاص جعل لک علی نفسہ ان یکفیک امرالدنیا و الاخرۃ۔ ترجمہ:جان لوخداوندعالم کے حقوق تمہارے پورے وجود کااحاطہ کئے ہوئے ہیں۔تمہاری کوئی حرکت’تمہاراکہیں جانا اورکسی الہ کااستعمال تک کے بارے میں پوچھاجائے گا۔

پس سب سے بڑاحق حقوق میں سے خداوندعالم کاہے جس کوخدانے فرض کیاہے تم پراپنے حق میں سے جوکی حقوق کی اصل اورجڑہے پھر خداوند عالم نے واجب کیا ہے تم پرتمہارے لئے سرسے پیرتک کچھ حقوق۔حقوق میں سے سب سے بڑاحق تم پرتمہارے رب اور پروردگار کا ہے۔اور تمہارے پروردگار کا حق یہ ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو اور زرہ برابر شرک نہ کرو۔اورگرتونے اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کی توتمہارے لئے دنیاواخرت میں یہی کافی ہے۔رسالۃ الحقوق کے اغازمیں امام زین العابدین ع نے پوروردگارعالم کاحق بیان فرمایاہے کہ:انسان دنیامیں خالق دنیا’مالک دنیا’رازق دنیا ‘ مدبر دنیااورحاکم دنیاوعالم کوپہچانے اس کی معرفت حاصل کرے اور اسی کی عبادت کرے۔حقیقت یہ ہے کہ جورب کوپاتاہے وہی دنیا اوراخرت میں کامیاب ہوتاہے۔سی وجہ سے حدیث نبوی ص ہے کہ اول الدین معرفۃ الجباراو اخرہ تفویض الامرالیہ۔کہ دین کی ابتداہی جبارخداکی معرفت سے ہوتی ہے اوردین کااخرتمام امورکواسی کے سپردکرناہے۔ یعنی پہلے اس پروردگارکی معرفت پھراس کی بندگی اورعبادت ہے۔کیونکہ معرفت اورعبادت لازم وملزوم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں