تہذیب وتمدن

فکر انگیز تحریر شیخ فدا علی ذیشان کے قلم سے
(سیکریٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم، ضلع سکردو گلگت بلتستان)

یوں تو دنیا میں ہر کوئی اپنی ثقافت کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، چاہے اس میں کوئی خوبی ہو یا خامی یا خامی ہی خامی ہو۔ کامیاب انسان وہ ہے جس کواپنی تہذیب و تمدن پر باور اور یقین بھی ہو اور اسکی حفاظت بھی کرے۔ ناکام و نامراد ہے وہ جس کو اپنی تہذیب وتمدن پر یقین بھی نہ ہو اور اعتبار بھی نہ ہو۔ نتیجتا وہ ہر ایک کی تہذیب کواپنی ہی تہذیب قرار دے کر اس کواپناتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ہر برائی میں ملوث بھی نظر آتا ہے اور در در کی ٹھوکریں بھی کھاتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کی تہذیب اور تمدن سے کیا مراد ہے؟اس سوال کاجواب یہ ہے کہ تھذیب وتمدن کا ایک لغوی معنی ہے اور ایک اصطلاحی معنی۔ اہل لغت جیسے کہ راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ تہذیب کا مادہ اصلی ھذب ہے جس کامطلب اصلاح کرنا ‘شاخ تراشی کرنا ‘ کاٹنا ، وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ اصطلاح میں تھذیب سے مراد انسان کے وہ نظریات و تصورات ، افکار اور خیالات ہیں جس سے اس کے عمل اور کردار کی اصلاح ہو جائے۔ جبکہ تمدن کا مادہ اصلی مدن جوکہ مدن مشتق ہے اور مدن فعل ماضی ہے ۔ایک لفظ مُدُن ہے جو کی مدینۃ کی جمع ہے اور مدینۃ کا معنی شہر ہے۔اور مدن کالفظی مطلب شہر آباد کرنا یا شہر بسانا۔ جبکہ اصطلاح میں اس سے مراد انسان کے نظریات کی بنیاد پر جو عمل سرزد ہوجائے اس کو تمدن کہاجاتا ہے ۔ یعنی تہذیب و تمدن سے مراد ایک ایسا نظام جس میں انسانی معاشرے کے تمام شعبوں کا احاطہ کیا ہوا ہو، چاہے وہ سیاسی نظام ہو یا معاشی، اقتصادی ہو یا سماجی، اور ثقافتی ہو یا تعلیمی۔ لہذا تھذیب و تمدن کے عوامل اسلام کے بنیادی عقائد ہیں جبکہ اس کے عناصر ارکان اسلام ہیں اب بحیثیت مسلمان جس کے بنیادی عقائد پر جتنا پختہ ایمان ہوگا اتنا ہی اس کا سیاسی نظام، اس کا اقتصادی نظام ‘اس کا ثقافتی نظام اور اسکا تعلیمی نظام بھی پاک و پاکیزہ ہوگا۔

اسلام کا سیاسی نظام ایک بہترین سیاسی نظام ہے جس کا نمونہ پیغمبر اکرم ص نے پیش کیا ہے اوراس کی ایک جھلک حضرت علی ء کے دور میں نظر آتی ہے جس میں حاکم کا تصور مسئولیت اس قدر ہے کہ حاکم ایک لمحہ بھی چین اور سکون میں نہیں بیٹھتا بلکہ دن رات خدا کی عبادت اور مخلوق خدا کی خدمت کرنے کے بعد بھی سکون و آرام سے نہیں بیٹھتا۔ بلکہ مسلسل خداکی بارگاہ میں محو عبادت نظر آتا ہے اور ہمیشہ اپنے کردار پہ نظر رکھتا ہے کہ اس کا کردار ہر ایک کےلئے نمونہ قرار پائے۔اور رعایا میں سے سب سے غریب رعیت کا طرز زندگی اپنا لیتا ہے تاکہ اس غریب کو اپنی غربت کا احساس تک نہ ہو۔ ایسے میں اسلام کے سیاسی نظام میں ہر ایک حاکم نہیں بن سکتا، بلکہ اس حاکم کا حاکم بننے کے اعلی ترین معیار پر پورا اترنا ضروری ہے جس کی طرف معصوم ء نے اشارہ کیا ہے کہ صائنالنفسہ، حافظا لدینہ، مطیعا لامر مولاہ، مخالفا علی ھواہ، یعنی کہ ایسا فقیہ جواپنی خواہشات کوکنٹرول کرنے والا، اپنے دین کی حفاظت کرنے والا، اپنے رب کامطیع اورنفسانی خواہشات کامخالف ہو۔ اور یہ اوصاف تمام فقہاء میں نہیں ہوں گے بلکہ کچھ فقھاء میں ہوں گے۔ لہذا ہرکوئی سیاسی حاکم نہیں ہوگا بلکہ سیاسی حاکم کےلئے بھی فقیہ ہونا ضروری ہے۔ جو فقیہ ہوگا وہی سیاسی حاکم بھی ہوگا اور روحانی و مذہبی حاکم بھی ہوگا۔ جس طرح پیغمبراکرم ص تمام اہل مدینہ کا سیاسی ومذہبی اور روحانی حاکم تھے۔

آج افسوس ان لوگوں پرہوتاہے جو ان دونوں کو الگ سمجھتے ہیں اور خیانت کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو سیاست کو دین سے جدا سمجھتے ہیں حالانکہ یہ تصور اسلام کا نہیں کلیسا کا ہے۔ جبکہ مثالی سیاسی نظام اسلام ہی کا ہوسکتا ہے ۔جتنا نظام پاکیزہ ہوگا اتنا کردار پاکیزہ ہوگا۔ جتنا ایماں باللہ پریقین ہوگا اتنا ہی عمل پاک ہوگا۔ اسی طرح اسلام کا معاشی اور اقتصادی نظام بھی بھترین ہے۔ سیاسی نظام اور اقتصادی نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں حاکم اعلی ذات الہی ہی ہے، جس کا بنایا ہوا نام ہی معاشرے میں نافذ کیا جائے گا اب جب میں ایک مسلمان ہوں تو مجھے اپنے ذاتی کردار کو قران وسنت کے سایے میں ڈھالنا ہوگا۔ ذاتی کردار کے ساتھ ساتھ سیاسی اور اقتصادی نظام کو قرآن وسنت کی روشنی میں بنانا ہوگا۔ میرا کوئی عمل قران وسنت سے متصادم ہوگا تو وہ برا ہوگا۔ اسلام نے بہترین سیاسی، اقتصادی، تعلیم اور ثقافتی نظام دیا ہے۔ اب جبکہ تھذیبی تصادم کے اس دور میں بھترین تھذیب و تمدن اسلام کی ہی ہے جس میں مندرجہ ذیل خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں:

1۔ اسلامی تھذیب میں دین ودنیاکی یکجائی کاتصورپایاجاتا ایک خطرنات کلیسائی غلطی کے مرتکب مسلمان ہوگئے کہ کلیسا کا نظریہ ہے کہ انسان کی عبادات کا تعلق آخرت سے ہے جبکہ معاملات کا تعلق دنیا سے ہے جبکہ اسلام نے اس تصور پہ خط بطلان کھینچ لیاہے اور دین و دنیا کو ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم قرار دیا ہے جس طرح شیخ محمد عبدو کا کہنا ہے کہ جس دن کلیسانے اپنے دین کو چھوڑا اس دن ان کی ترقی کا آغاز ہوا اور جب سے مسلمانوں اپنے دین کو چھوڑا اس دن سے مسلمانوں کا زوال اور پستی شروع ہوا۔ لہذااسلام نے دین اور دنیا دونوں کو حاصل کرنے کاحکم دیا جبکہ کلیسا نے اس تصور کو مسلمانوں میں اس لئے ڈالا تاکہ مسلمان دنیامیں رسوائی کے ساتھ ذندگی گزارنے پہ مجبور ہوں اور خدارحمت کرئے اقبال پرجنہوں نے ابلیس کی مجلس شوری میں مسلمانوں کوخبردارکیا تھا کہ:

تم اسے بیگانہ رکھو عالم کردار سے
تابساط ذندگی اس کے سبب مھرے ہوں مات

خیراسی میں ہے قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہان بے ثبات

ہرنفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت اس کے دین احتساب کائنات

مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے

تمام مسلم ممالک کواسی سوچ کی طرف لئے جایاجارہا ہے، بلخصوص اقبال وقائد اعظم کے پاکستان کو بھی اسی منزل کی طرف تیزی کے ساتھ لے جایا جارہا ہے ۔

2۔ اسلامی تھذیب کی ایک خوبی یہ ہے کی اس میں روحانیت کا تصور پایا جاتا ہے۔ اگر دنیا کی تھذیب کو دیکھا جائے تو وہاں صرف انسان کے جسم کو ہی مورد توجہ قرار دیا جاتا ہے روح کا کوئی تصورنہیں پایا جاتا۔ جبکہ اسلام نے جہاں جسمانی لذات کے حصول کوشرعی حدود میں رہ کر ممکن بنایا ہے وہاں روح کے روحانی تقاضوں کو بھی پورا کرنے پر تاکید کی ہے۔ لہذا ہر انسان کو جسمانی ذندگی کے ساتھ ساتھ روحانی ذندگی بھی گزارناچاہئے کیونکہ جو لوگ جسمانی لذات کے حصول میں لگتے ہیں اور روحانی لذات کو ترک کرتے ہیں ان میں سے اکثر نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں چاہے مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔

3۔ اسلامی تہذیب کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں حقوق متعین ہیں۔ جس کا جتنا اختیار کا دائرہ بڑا ہوگا اتنا ہی وہ ذمہ دار ہوگا۔

4۔ اسلامی تہذیب وتمدن کا ایک خاصہ یہ ہے کہ اس میں تصور مسولیت بھی پایا جاتا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو کچھ عالم اسلام میں ثقافت کے نام پر ہو رہا ہے یہ کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگ یورپ کی تھذیب کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں وہ یورپ سے ہی متاثر ہیں جبکہ کچھ لوگوں کی پانچوں انگلی گھی میں ہیں لہذا ان کے رنگ میں رنگنے کو ہی اپنی بقا سمجھتے ہیں حقیقت یہ بھی ہے کہ اکثر اسلامی ممالک اس وقت سامراجی اور عالمی طاقتوں کی کاسہ لیسی اور غلامی کر رہے ہیں اور انہی طاقتوں کے اشارے پے ہی چلتے ہیں کچھ ملک کے علاوہ اکثر ممالک یورپ کے اشارے پہ اپنی داخلہ خارجہ پالیسی مرتب کرتے ہیں جس کی بناء پر یہ لوگ انہی کے بیہودہ ‘لھولعب کو ہی اپنی ثقافت اور تہذیب سمجھتے ہیں جبکہ اس تہذیب کا اسلام سے ، آپ اور میرے ملک سے اور آپ اور میرے علاقے سے دور دور کا بھی تعلق نہیں جس کو ترویج دینے کے پیچھے ملک کے دشمن عناصر بھی ملوث ہیں ۔اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تھذیب کے گندے ہیں انڈے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں