وماارسلناک الارحمۃ للعالمین

تحریر: شیخ فدا علی ذیشان
سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم ضلع سکردو

خداوندعالم نے بشریت کی ھدایت کے لئے انبیاءکی بعثت کاسلسلہ شروع کیا ۔جس میں سب سے پہلے حضرت ادم ء کوارسال فرمایایوں انبیاءکی بعثت کااغازہوااور سب سے اخرمیں حضرت محمد ص کواخری نبی بناکربھیجااور اپ ص پرسلسلہ نبوت موقوف ہوااب اپ کے بعد کوئی نبی انے والہ نہیں ہے۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ انبیاءکی بعثت کاہدف اورمقصد کیا؟اس سلسلے میں قران نے واضح انداز میں انبیاءکی بعثت کاہدف بیان کرتے ہوئے فرمایاہے کہ: لقدمن اللہ علی المومنین اذبعث فیہم رسولامنہم یتلوعلیہم ایاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ :ںیشک اللہ تعالی نے مومنین پراحسان کیاہے کہ انھی میں سےایک رسول کوبھیجاتاکی وہ رسول ان پرایات کی تلاوت کرے’ان کاتزکیہ نفوس کرے اورکتاب وحکمت کی تعلیم دے۔سورہ ال عمران۔اس ایت اورسورہ جمعہ کی پہلی ایت کالب لباب یہ ہے کہ: انبیاء کی بعثت کافلسفہ ایات خداوندکی تلاوت. کہ انبیاء کواس لئے مبعوث فرمایا تاکی ایات خداوندی کی تلاوت کریں ‘لوگوں کوخداکی نشانیاں بیان کریں کہ لوگ خداکی معرفت حاصل کریں اوراس معرفت کے حصول کے بعد اسی کی ہی عبادت کریں جورب’ خالق’بارئ’ رازق’مدبراورمحی اورممیت ہے۔وہ اپنی ذات میں یکتاہے۔اس کی صفات عین ذات ہیں ذات سے جداگانہ نہیں ہیں ۔وہ لامحدود ہے ۔جس طرح کہاگیاہے کہ جس نے اس رب کوپایا اس نے سب کچھ پایااورجس نے اس کوکھویااس نے سب کچھ کھویا۔لہذاانبیاء کی بعثت کا ہدف اورمقصدایات خداکی تلاوت ہے۔تلاوت ایات کابنیادی مقصد تزکیہ نفوس ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ انسان مختلف قوتوں اور خواہشات کامجموعہ ہے اگر انسان کوبے لگام چھوڑدیاجائے توقوت غضبیہ کے اعتبار سے انسان درندوں سے بھی بدترہوجائے’اورقوت شہویہ کے اعتبار سےانسان چوپاوں سے بھی بدترہوجائے اوراگرانسان کومکمل ازادکیاجائے توانسان معاشرہ جنگل بن جائے جہاں شیرہی مالک بن جاتاہے اورانسان ہی ادم خوربن جاتاہے۔ اسی لئے انسانوں کاتزکیہ ضروری ہے تاکی انسانوں کی خواہشات کواحکام خداکی پابندکی جائے اورانسان معاشرہ کوایساانسانی معاشرہ بنایاجائے جہاں قانون خداکی بالادستی ہو’جہاں خواہشات کوبے لگام نہ چھوڑاجائے اورجہاں ایسامعاشرہ تشکیل دیاجائے جس میں معنویت اورروحانیت بھی حاکم ہو۔جہاں انسانوں کے لئے جسمانی تقاضوں کوپوراکرنے کے ساتھ ساتھ روحانی تقاضوں کوپوراکرنے کے مواقع ہوں تاکی تزکیہ نفوس ہواورہرانسان اپنے کمال کوپہنچ جائے۔تیسراہدف انبیاءکی بعثت کاکتاب وحکمت کی تعلیم ہے۔حکیم رب کی کتاب حکمت کی تعلیم ضروری ہے تاکی انسان حکمت سے بھرپورہوجائے اورحکیم رسول ص کی تعلیمات سے اشنائی بھی ضروری ہے تاکی حکمت سے بھرپورمعاشرہ تشکیل دیاجائے ۔اسی وجہ سے حکیم پروردگارنے اخری حکیم رسول ص کو 12 یا17ربیع الاول ایک عام الفیل کواس کی ولادت کے لئے منتخب کیا,اس معاشرے میں جہاں کفر’ جہالت ‘لاقانونیت اورنسلی امتیازات پائے جاتے تھے۔رسول ص نے چالیس سال اپنے کردارسے اپنے اپ کواس طرح منوایاکہ کفارمکہ اورمشرکین مکہ اپ کو صادق وامین کہتے تھے اوراپنی امانت رسول اللہ ص کے پاس رکھواتے تھے۔چالیس سال بعد اپ ص نے کچھ بنیادی کام کئے ۔فکری اعتبارسے بت پرست لات’منات’حبل اورعزی پرست کوتوحید پرست اورخداپرست بنادیا۔ظلمت جہالت میں گرے ہوئے معاشرے کونورعلم سے منورکیا۔لاقانونیت والے معاشرے کوقانون کاخوگربنادیا۔طبقاتی نظام پرمشتمل معاشرے کومساوات کاعلمبرداربنادیا ۔جہالت کاعالم یہ ہے کہ ایک خیمہ سے دوسرے خیمے میں ٹڈی اتی ہے اوردوسرے خیمے والے کھاتے ہیں اس بات پرکہ ہمارے خیمے سے ائی ہوئی ٹڈی کوکیوں کھالیاہے؟پرچالیس سال جنگ ہوتی ہے۔طبقاتی نظام کا حال یہ ہے کہ ہجرت کے بعد جب حضرت بلال اذان دیتے ہیں توایک صحابی کہتاہے کہ :خداکاشکرہے کہ میرے باباکاانتقال ہوابہت پہلے اوراج کاسیاہ ترین دن نہ دیکھا۔پوچھاگیا:ایساکیاہوا؟توکہتا ہم بڑے بڑوں کے ہوتے ہوئے حبشی کالاکوااذان دے رہاہے۔اس پرسورہ حجرات کی ایت نازل ہوئی کہ:یاایھاالناس اناخلقناکم من ذکروانثی وجعلناکم شعوباوقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم:اے لوگو:ہم نے تمہیں ایک مردوعورت کے ذریعہ پیداکیاارتمہیں مختلف قوم وقبائل میں بانٹاتاکی تمہاری شناخت ہو۔بیشک اللہ کی نظرتم میں سب سے ذیادہ مکرم ومعزز وہ ہے جس کے پاس سب سے ذیادہ تقوی ہو۔
حسب ونسب برتری’تفوق اور فضیلت کامعیارنہیں ہے بلکہ خاندان اورقوم وقبیلہ شناخت اورپہچان کازریعہ ہے ۔پس نسلی امتیازات کوختم کرکے تقوی کوبرتری کا معیار قراردیا ۔جس طرح اپ نے اپنےشہرہ افاق خطبہ’ خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا:لافوق للعربی علی الاعجمی ولالاحمرعلی الاسودالابالتقوی۔کہ کسی کوکسی پرکسی قسم کی کوئی برتری حاصل نہیں سوائے تقوی کے۔پس اسلام نے اورپیغمبراکرم ص نے فضیلت کامعیارتقوی کوہی قراردیاہے۔اورعملامساوات اوراخوت قائم کرکے بتادیاکہ اسلام میں عزت اورفضیلت کامعیاربس تقوی ہے۔ اسی وجہ سے سلمان فارسی فارس کارہنے والہ ہونے کے باوجود تقوی ہی کی وجہ سے سلمان محمدی بن گئے۔ایساافاقی دین اورائین کہیں بھی موجود نہیں جہاں قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ۔امیروغریب میں کوئی فرق نہیں ہے ۔بلکہ جب قبیلہ بنومخزوم کی فاطمہ نامی عورت چوری کرتی ہے اجرائے حد کے موقع پراسامہ سے سفارش کروانے کی کوشش ہوتی ہے اوراسامہ کو بیھیجااوراسامہ کہتاہے :یارسول اللہ ص قبیلہ بنومخزوم ایک بڑااورنامورقبیلہ ہے لہذااس عورت پے حدجاری نہ کی جائے تاکی اس قبیلہ کی عزت بچ جائے جس ر رسول اللہ ص نے فرمایا کہ:یااسامہ انماضل من قبلکم ۔۔۔۔۔ااے اسامہ ہم سے پہلے والے لوگ اگرگمراہ ہوئے تواس کی وجہ یہ تھی کہ جب کوشریف جرم کرتاتھاتواس پرقانون نافذکیاجاتاتھالیکن جب کوئی امیرجرم کرتاتھاتواس کوچھوڑدیاجاتاتھامگراس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے کہ اگریہ جرم میری بیٹی فاطمہ بھی کرتی تواس کے ہاتوں کو قطع کرتا۔گویااسلام میں قانون کی نظرمیں سب برابرہے ۔اس میں امیرغریب میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ہم ایک ایسے وقت میں میلاد مصطفی ص منارہے ہیں جہاں سب سے ذیادہ جہالت ‘اقرباپروری ‘طبقاتی نظام اورنسلی امتیازات پائے جاتے ہیں ۔لھذامیلاد مصطفی ص کاانعقاد اس لئے کیاجائے تاکہ ایساملک اورمعاشرہ بنایاجائے جہاں یہ تمام رسول ص کے اصول کو اپنایاجائے تاکی ایک مثالی ملک اورمعاشرہ بنایاجاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں