سکردو کااہم مسئلہ

تحریر: شیخ فدا علی ذیشان
سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم ضلع سکردو

یوں تو شہرکی طرف ہجرت کرناہرانسان کا فطری عمل ہےاور ہرانسان کا بنیادی حق ہے کیونکہ شہر میں جوسہولیات میسر ہوتی ہیں وہ دیہات اور دیہی علاقوں میں نہیں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے لوگ بنیادی سہولیات کے حصول کے لئے شہروں کی طرف ہجرت کرتے ہیں تاکہ تعلیم ‘صحت اورروزگاجیسی سہولیات کا حصول ممکن اور اسان ہو۔شہرکی رونق درحقیقت اس کی ابادی ہی ہواکرتی ہے ۔کثیرابادی کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار’ ذرائع امدنی اور روزگارکے کثیرمواقع ملتے ہیں مثلا ایک زمانہ تھا جب سکردوشہرمیں ابادی نہ ہونے کی وجہ سے کاروباری حضرات اپنی دکانوں میں اتے تھے اور صبح سے شام تک میں چند سوروپے کماتے تھے جبکہ اج کل کچھ کاروباری حضرات روزانہ لاکھوں میں کماتے ہیں ۔اسی طرح مراکز دینی میں بھی اجتماع کم ہوتا ہے اگرابادی چند ہزارپرمشتمل ہو۔جبکہ ہزاروں اورلاکھوں کا اجتماع ہوتا ہے اگر ابادی ذیادہ ہو جائے۔مگرجوں جوں شہرکی ابادی میں اضافہ ہوتاہے توشہرکے مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں خصوصا کوئی ایسا شہر جہاں لوٹنے والے ذیادہ ہوں بنانے والے نہ ہونے کے برابر ہوں ‘شہرکوسنوار والے نہ ہوں لوٹ مار کابازارگرم کرنے والے کثرت میں پائے جاتے ہوں قانوں صرف کتابوں میں موجود ہواوراشراف قانوں کواپنی لونڈی سمجھتا ہو ادارے مخصوص لوگوں کوہی نوازتا ہوقانوں طبقہ اشراف کے اشارے پے ہی حرکت مں اتاہوپولیس اہلکار غریبوں پے قانوں کانفاذسوفیصدکرنے پے بضد رہے اورامیروں کے سامنے بے بس نظراجائے ایسے میں چھوٹاساشہرمسائل میں گرجاتاہے خصوصا سکردو جیسا چھوٹاساشہرجہاں نہ کسی کی توجہ ہے نہ کوئی اس شہرسے ہمدردی رکھتاہے نہ سٹی پلان موجود ہے کسی کے پاس نہ سیاست دانوں کے پاس نہ بیورکرسی کے پاس۔اس سے ذیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جہاں تاجر سیاست دان بن جائے تواس سیاست دان کوتجارت سے غرض ہوتی ہے غریبوں کاکوئی احساس نہیں ہوتاہے اج سکردوشہر کاسب سے بڑامسئلہ یہی ہے جب اس طرح کے حالات ہوں تو مسائل میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔سکردوشہر میں ایسا ہی ہورہا ہے جہاں تاجرسیاست دانوں کامحور کمیشن’ٹھیکہ داری اوراپنی جیب بھرناہواوربیوروکریسی کامحور لوٹناہووہاں کے عوام کا بنیادی مسائل میں گرفتارہونا’شہرکامسائلستان بن جانافطری ہے لہذاسکردومیں نہ بجلی کامسئلہ حل ہوگانہ کوئی دوسرا مسئلہ۔بجلی کاجان بوجھ کربحران پیداکیاجارہاہے جس کی دلیل سدپارہ ڈیم کے پانی کامسلسل ضیاع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں