سیاست :عبادت یاخیانت

تحریر: شیخ فدا علی ذیشان
سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم ضلع سکردو

پاکستان کے مختلف شہروں میں جانے کااتفاق ہوااورکچھ موضوعات پے تبادلہ خیال ہوااور اسی طرح گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں جانے کااتفاق ہوااورمختلف لوگوں سےملاقات کاشرف حاصل ہوااورملے جلے اظہار خیال سے۔اور اج اپنے بچپن کے محلے کے ایک استاد سے” جوبہت کچھ اخلاقیات سیکھایاکرتے تھے ” ان کی دکان پے ملاقات ہوئی اورحالات حاضرہ پرتفصیل سے بات چیت ہوئی۔لوگوں کی گفتگو’ مختلف پارٹیوں کے چہل پہل ‘سوشل میڈیاپرتشہیری مھم اور (لوٹوں کے پارٹیاں بدلنے کے انداز)نے مجھے بھی کچھ لکھنے پے مجبورکیااورقلم اٹھایااور مندرجہ بالاموضوع پے لکھناشروع کیا۔حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں جب بھی کوئی سیاست کالفظ سنتاہے تواس سے مرادلوٹ مار ‘کرپشن’اپنوں کوٹھیکوں اونوکریوں سے نوازنے اوراجارہ داری قائم کرلینا “لیتاہے ۔اور سیاست مداربھی انہی خامیوں اورگالیوں کے بل بوتے پے ذندہ رہتاہے اورسیاست دان رہتاہے۔نتیجہ اج سیاست کا لفظ ایک گنداترین لفظ تصورکیاجاتاہے۔جب کی حقیقت اس کے برعکس ہے ۔یعنی سیاست ایک مقدس اورپاکیزہ لفظ ہے ۔سوال یے پیداہوتاہے کہ سیاست کامفہوم اورمعنی کیا ہے؟اس سوال کے جواب کوتلاش کرنے کے لئے ہمیں کچھ تفصیل میں جانا ہوگا اور سیاست کے لفظ کی گہرائی میں جاناہوگا۔تاکی سیاست کامفہوم ہم پرواضح ہواوراس کی پاکیزگی ہم پرعیاں ہوتاکی معاشرے کاہرفرداس مقدس عبادت میں مشغول ہو۔لھذاپہلے ہمیں سیاست کے لفظی ولغوی معنی پھراس کے اصطلاحی معنی سے اشنا ہونا ہوگا۔ اہل لغت کے بقول “سیاست” کا لفظ ,ساس’ سے مشتق ہے سیاسۃ البلاد تولی امورھا وتسییراعمالھاالداخلیۃ والخارجیۃ وتدبیرشوونھا۔سیاسۃ الامرالواقع ای التسلیم بماھوواقع وکذالک سیاسی مشتق من سوس :الذی یعنی بشوون السیاسۃ ‘الحقوق السیاسۃ “حقوق کل مواطن فی ان یشترک فی ادارۃ بلادہ اوممارسۃ اعمالہ الوطنیہ کالانتخاب ونحوہ : سیاست کالفظ ساسۃ سے مشتق ہے جس کالغوی مطلب تدبیرکرنا’انتظام کرنا’نظم ونسق پیداکرنا۔جبکی اصطلاح میں اس کامفھوم :ساسۃ البلاد تولی امورھا وتسییر اعمالھا الداخلیۃ والخارجیۃ وتدبیر شوونھا یعنی سیاست کامطلب ملک کے امورکی سرپرستی کرنا’ملک کے داخلی اور خارجی پالیسی کواسان اورملک کے مفاد میں بنانا اورریاست کے امورکی بہترین تدبیرکرنا۔جبکی اصطلاح میں سیاست کامطلب یعنی اپنے گھر’محلے اورملک کی بہترین تدبیرکرنا ‘ریاست کے ان امورکی تدبیرکرناجس کے مرتب کرنے میں اور اس کےفائدے میں تمام شہری شریک ہوں۔جیسے انتخاب وغیرہ۔یعنی ریاست کے وہ امور جس میں بلاواسطہ تمام شہری شریک ہوں اورریاست کے جملہ امورکےفوائدمیں بھی تمام لوگ مشترک ہوں۔
لغوی اوراصطلاحی مفھوم سے ہی پتہ چلاکہ سیاست سے مراد گھرکی تدبیر’علاقے کی تدبیراورریاست اورملک کی تدبیر ہے۔اس کا مطلب یہ ہواکہ سیاست ہرگھرمیں ہو جس گھرمیں سیاست نہیں وہ ناکام ترین گھرانہ ہوگا۔سیاست ہرمحلے میں ہوجس محلے میں سیاست نہیں ہے وہ ناکام ترین محلہ ہوگا ۔سیاست ہرمسجد میں ہوجس مسجد میں سیاست نہیں ہےوہ مسجد’مسجدضرارکی طرح کی کوئی مسجدہوگی مسجد نبوی ص کی طرح کی کوئی مسجد نہیں ہوگی اورہرعالم کوسیاسی ہوناچاہئے اس لئے کہ دین کے ہررکن میں سیاست کاپہلوپایاجاتاہے لہذاسیاست کانہ انافخرنہیں بلکی نااہلی ہے۔ سیاست ہرملک میں ہوجس ملک میں سیاست نہیں ہے وہ ملک ناکام ترین ملک ہوگا۔اسی لئے کہاجاتاہے کہ السیاسۃ لاتنفک عن الاسلام :کہ اسلام عین سیاست ہے ۔سیاست اسلام سے جدانہیں ہے۔پس اگرگھرکی تدبیر’محلے کے امور کی تدبیراورریاستی معاملات کی تدبیرکرناسیاست ہے تویہ عبادت ہے اوریہ عبادت ہرایک پے فرض اورضروری ہے “مگرملک پاکستان کاسب سے بڑاالمیہ یہ رہاہے اوررہے گاکہ اہل علم میدان ساست سے مکمل لاتعلق ہے اورمیدان سیاست کوخالی چھوڑاہے مگرجومیدان خالی ھوگااس نے تو پرہوناہی ہے یاوہ میدان اچھے اوراہل لوگوں سے پرہوگایابرے اورنااہل لوگوں سے پر ہوگا “چونکہ میدان سیاست اور حکومت ایک اہم ترین رکن اساسی ہے مملکت میں جس کی وجہ سےرب کائنات نے قران کریم میں بھی جابجا واضح اندازمیں سیاست حکومت اورحکام کے فرائض کوتفصیل سے بیان فرمایاہے جس کی تفصیل بعد میں بیان ہوگی ۔اسی طرح پیغمبراکرم ص نے بھی ایساطرزحکومت وسیاست اپناکے دیکھادیاہے۔اب ریاستی امورکی تدبیرکے لئے مدبر کا ہونا ضروری ہے اورمدبرہرکوئی تونہیں ہوسکتاہے بلکی ایک عالم ‘فاضل اورملکی اوربین الاقوامی حالات پرمکمل گرفت رکھنے والاہی مدبرہوسکتاہے کیونکہ جس ملک کے چھوٹے سے چھوٹامعاملہ بھی بین الاقوامیں حالات سے جڑاہواہواس ملک میں ہرکوئی تدبیرنہیں کرسکتاہے
۔بلکی تدبیرامور کے لئے ایک بین الاقوامی حالات پر یدطولی رکھنے والاعالم ‘فاضل ‘نظریاتی اورخوف خدارکھنے والاشخص کاہوناضروری ہے ۔
حقیقت تویہ ہے کہ :گھرکےامور کوبھی چلانے کے لئے ایک ماھر ‘حازق اوربہترین فردکا انتخاب کیاجاتاہے اوراس ماھر کے بغیر گھرکانظام نہیں چل سکتاہےاسی طرح محلے کے لئے بھی ایک ماھرفردکاانتخاب کیاجاتا ہے تاکی نظام بہتراندازمیں چل سکے۔ارے ایک ٹیم میدان میں اچھے کپتان کے بغیرمیچ کھیل نہیں سکتی ہے ۔اب گھراورمحلے کانظام ماھرکے بغیرنہیں چل سکتا ہے توملک کا نظام ایک نالائق’ان پڑھ اورخائن کے ذریعے کیسے چل سکتاہے ۔اسی لئے کہاجاتاہے کہ ووٹ ایک امانت ہے جوکسی امین کو ملنا چاہئے۔اورمیدان سیاست کے لئےبھی ایک بہترین مدبرا’ ماھرترین اورلائق فردکاانتخاب کرناضروری ہے تاکی بہترین انتظام وانصرام کے ذریعے سے ملک کومادی اوروحانی ترقی کی راہ پےگامزن کرسکے۔
اس کامطلب یہ ہواکی سیاست ہر گھر’علاقہ اورملک کاجز لاینفک ہے جس کے بغیر گھر اور علاقے کانظام چل نہیں سکتاہے
اسی طرح سیاست کے بغیرملک کانظام بھی چل نہیں سکتاہے ۔اب دیکھنایہ ہے کہ نظام مملکت کوچلانے کے لئے لوگ کس قسم کے فردکاانتخاب کرتے ہیں ۔اہل کاانتخاب کرتے ہیں یانااہل کا انتخاب کرتے ہیں ۔اب دوسراسوال یہ پیداہوتاہے کہ اہل سے کیامرادہے؟اس کاجواب بھی بلکل واضح ہے کہ :ملک کے معاملات کوچلانے کے لئے ‘داخلہ اورخارجہ پالیسی مرتب کرنے کے لئے اورعوام کی فلاح وبہبود کے لئے فردکاانتخاب کیاجاتاہے تواس کے لئے اہل فردکاانتخاب کیاجائے۔اوریہاں اہل سے مراد پڑھالکھا’بین الاقوامی حالات پرگہری نظررکھنے والا اور معاملات کی سمجھ بوجھ رکھنے والاہو تاکی یہ منتخب اہل فردپانچ سال سیرسپاٹے میں مغرورہوکے نہ گزارے بلکی انے والی نسلوں سے جڑے اوربین الاقوامی معاملات سے جڑے ہوئے مسائل کاحل نکالے اورعوام کی بھرپورخدمت کرے تاکی اگلے پانچ سال پھرخدمت کی بنیادپردوبارہ جیت جائے اور اس کی جیت یقینی ہو۔
لھذااگرسیاست کامطلب مذکورہ بالامعنی لیاجائے توعبادت ہے اور اگرسیاست کامطلب ملک میں رائج طریقہ لیاجائے یعنی سیاست سے مراد سیاست دان کی اجارہ داری ‘کرپشن ‘لوٹ مار’اقرباپروری’کمیشن خوری اوراپنوں کوٹھیکوں اورنوکریوں سےنوازنا ہے توسیاست عبادت نہیں ہے خیانت ہے۔اب اتے ہیں بلتستان میں مروجہ سیاست پے جہاں گذشتہ کئی سالوں سے مختلف نشیب وفرازدیکھااور مختلف علاقوں اورسیاست مداروں کوپڑھنے ‘سمجھنے اورحالات کو بغور دیکھنے کاموقع ملاجس کے بعدپورے یقین واثق سے کہہ سکتاہوں کہ بلتستان میں سیاست دان عبادت نہیں خیانت کرتے ہیں کیونکہ یہاں سیاست دان کامحورتھیکہ دارہوتاہے اورتھیکہ دارکا محور سیاست دان ہوتاہے نتیجہ ٹھیکہ دارکےپورے کاپوراھم وغم ٹھیکہ ہی ہوتاہے جس کی بناپرہواکے رخ کے ساتھ ہی اپنارخ بھی بدل دیتاہے جس کی ضمیرکی قیمت بس ٹھیکہ ہی ہوتی ہے جس کاثبوٹ گذشتہ پی پی پی اور اج نون لیگ کے دورحکومت میں دیکھاجاسکتاہے اوراب مفاد پرست ٹولے کارخ پی ٹی ائی کی طرف ہوگیاہے۔کچھ خیانت کارتووہ ہے جوکمیشن ‘ٹھیکہ اوراثررسوخ کے بل بوتے پرہی سیاست کرتے ہیں اورکچھ تو وہ ہیں جوٹھیکوں کی خریدوفروخت میں مشغول ہیں اگرسکردوشہر کے منصوبوں پرایمانداری سے پیسہ خرچ کیاجائے اورذیادہ بچت کی فکر نہ ہوتوسکردوجیساچھوٹا سا شہرایک بے مثال شہربن سکتا ہے کسی ضلع کے نمائندہ کو%30 اے ڈی پی دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔اب محترم قاری خودفیصلہ کرے کہ پاکستان میں بالعموم اور بلتستان میں بالخصوص سیاست عبادت ہے یاخیانت۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں