اسلام و ایمان میں فرق

تحریر: شیخ فدا علی ذیشان
سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم ضلع سکردو

ایمان کے چار ستون ہیں اور وہ صبر، یقین، عدل اور جھاد ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے چار چار اجزاء ہیں۔ صبر کے چار اجزاء شوق، شفق، زھد اور ترقب (انتظار موت) ہیں۔ جس نے جنت کا اشتیاق پیدا کیا اس نے خواہشات کو بھلا دیا اور جسے جہنم کا خوف حاصل ہوا اس نے محرمات سے اجتناب کیا۔ دنیا میں زھد اختیار کرنے والا مصیبتوں کو ہلکا تصور کرتا ہے اور موت کا انتظار کرنے والا نیکیوں کی طرف سبقت کرتا ہے۔ یقین کے چار اجزاء ہیں، ہوشیاری کی بصیرت، حکمت کی حقیقت رسی، حکمت کی نصیحت اور سابق بزرگوں کی سنت گویا یقین کی چار بنیادیں ہیں۔

دین اسلام پورے کا پورا امن و آشتی، الفت و محبت سے عبارت ہے جس کی واضح دلیل اسلام “سلم” اور “ایمان” امن سے نکلا ہے، اور دونوں کا لفظی مطلب امن اور سکون ہے۔ اسلام کے امن اور سلامتی کا دائرہ بہت وسیع اور ہمہ جہتی ہے کیونکہ اسلام کے امن و آشتی کا تصور اتنا وسیع ہے کہ انسان کو بدگمانی کی ذرہ برابر اجازت نہیں ہے، اور بدگمانی کو صریحا حرام قرار دیا اور قانون دیا کہ فعل المسلم یحمل علی الصحۃ۔ کہ فعل مسلم کی توجیہ کرے مگر کوئی بدگمانی نہ کرے۔ یعنی اسلام کا تصور امن و سلامتی اتنا وسیع ہے کہ کسی مسلم کو اتنی بھی اجازت نہیں ہے کی کوئی کسی پر اپنے ذہن اور خیال میں بھی تہمت کے تیر پھینکے۔ جب اسلام نے تہمت کے تیر پھینکے کو حرام قرار دیا ہے تو ناحق کسی کی جان کو قتل کرنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے یہ جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے یہ کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں اسلام کے نام پر جو کچھ دہشت گردی اور انتہاء پسندی ہو رہی ہے اس کا اسلام سے کوسوں دور کا بھی واسطہ نہیں ہے مگر استکباری، سامراجی اور عالم طاقتوں نے اسلام کے مقدس دین اور آئین سے دور رکھنے اور پوری دنیا پر تسلط اور حکومت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے جس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ اسلام تھا، کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ یہاں دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام اور ایمان میں نمایاں فرق کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلام کا ایک دائرہ ہے اور ایمان کا دوسرا دائرہ۔ اسلام ایک ظاہری شکل و صورت کا نام ہے، جبکہ ایمان ایک باطنی کیفیت اور صورت کا نام ہے۔ اسلام کے دائرے میں داخل ہونے کے لئے اسلام کے بنیادی  عقائد کا اظہار زبان سے کافی ہوتا ہے۔ اور اسلمنا کہنا کافی ہوتا ہے جبکہ ایمان ایک باطنی کیفیت کا نام ہے جس کا اظہار صرف زبان سے ناکافی ہوتا ہے بلکہ دل سے ایمان، زبان سے اقرار اور عمل سے اظہار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لہذا اسلام سے مسلم بنتا ہے اور ایمان سے مومن بنتا ہے۔ دائرہ اسلام میں داخل ہونا آسان ہے جبکہ دائرہ ایمان میں داخل ہونا سخت اور مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ ہر مومن مسلم ہوتا ہے مگر ہر مسلم مومن نہیں ہوتا ہے۔ جس طرح قرآن کریم  میں ارشاد ہوتا ہے کہ “قالت الاعراب امنا“، اعراب نے کہا ہم ایمان لائے ہیں کہہ دیں تم ایمان نہیں لائے ہو بلکہ کہہ دو   اسلمنا: ہم اسلام لائے ہیں اور ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا ہے۔ (سورہ حجرات) اس آیت سے اسلام اور ایمان کا فرق واضح ہو رہا ہے۔

قرآنی آیات کے مطابق مسلم ہونا ناکافی ہے بلکی مومن ہونا ضروری ہے۔ مسلم ہونے کے لئے ارکان خمسہ کا اظہار ضروری ہے جس طرح صحیح مسلم کی روایت ہے کہ “قال الرسول ص بنی الاسلام علی خمس، علی شہادۃ ان لا الہ الا اللہ و ان محمد عبدہ و رسولہ و اقام الصلاۃ و ایتاء الزکاۃ و صوم رمضان و حج البیت من استطاع الیہ سبیلا”۔  اس حدیث مبارکہ میں اسلام کے پانچ ارکان بیان ہوئے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اسلام کی بنیاد کلمہ شہادتین، اقامت صلاۃ، زکات کی ادائیگی، ماہ رمضان کا روزہ اور حج بیت اللہ ہیں۔ کلمہ شہادتین سے مراد خدا کی وحدانیت کا اقرار اور رسول اللہ (ص) کی رسالت اور عبدیت کا اقرار ضروری ہے۔ اقامت صلاۃ کا مطلب پانچ اوقات کی نماز بھی ضروری ہے۔ اسی طرح صاحب نصاب پر زکات جبکہ صاحب  استطاعت (مستطیع) پر زندگی میں ایک بار حج واجب اور بار بار حج کی سعادت حاصل کرنا سنت موکدہ اور مستحب عمل ہے۔ یہ تو ارکان اسلام ہیں مگر قرآنی آیات میں اور احادیث مبارکہ میں ارکان ایمان مختلف الفاظ کے ساتھ مختلف بیان ہوئے ہیں۔ جب ایمان کے بارے میں رسول اکرم (ص) سے پوچھا حدیث جبرئیل (ع) میں تو آپ (ص) نے فرمایا کہ “ایمان دل سے معرفت، زبان سے اظہار اور اللہ، رسل، کتب، ملائکہ اور آخرت پر یقین سے عبارت ہے”۔ اسی طرح  پوچھا گیا حضرت علی (ع) سے کہ یا علی ما الایمان؟ تو حضرت علی (ع) نے فرمایا کہ “الایمان علی اربع دعائم علی الصبر والیقین والعدل والجھاد”، یعنی ایمان کے چار ستون ہیں اور وہ صبر، یقین، عدل اور جھاد ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے چار چار اجزاء ہیں۔ صبر کے چار اجزاء شوق، شفق، زھد اور ترقب (انتظار موت) ہیں۔ جس نے جنت کا اشتیاق پیدا کیا اس نے خواہشات کو بھلا دیا اور جسے جہنم کا خوف حاصل ہوا اس نے محرمات سے اجتناب کیا۔ دنیا میں زھد اختیار کرنے والا مصیبتوں کو ہلکا تصور کرتا ہے اور موت کا انتظار کرنے والا نیکیوں کی طرف سبقت کرتا ہے۔ یقین کے چار اجزاء ہیں، ہوشیاری کی بصیرت، حکمت کی حقیقت رسی، حکمت کی نصیحت اور سابق بزرگوں کی سنت گویا یقین کی چار بنیادیں ہیں۔ اپنی ہر بات پر مکمل اعتماد رکھتا ہو۔ حقائق کو پہچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ دیگر اقوام کے حالات سے عبرت حاصل کرے اور صالحین کے کردار پر عمل کرے ایسا نہیں ہے تو انسان جہل مرکب میں مبتلا ہے اور اس کا یقین فقط وھم و گمان ہے یقین نہیں ہے۔

عدل کے بھی چار اجزاء ہیں، تہہ تک پہنچ جانے والی سمجھ، علم کی گہرائی، فیصلہ کی وضاحت اور عقل کی پائیداری۔ اسی طرح جھاد کے بھی چار شعبے ہیں، امر با لمعروف، نہی عن المنکر، ہر مقام پرثبات قدم اور فاسقوں سے نفرت و عداوت۔ گویا جھاد کا انحصار بھی چار میدانوں پر ہے۔ امر بالمعروف کا میدان، نھی عن المنکر کا میدان، قتال کا میدان اور فاسقوں سے نفرت و عداوت کا میدان۔ ان چاروں میدانوں میں جھاد کا حوصلہ نہیں ہے تو تنہا امر و نھی سے کوئی کام چلنے والا نہیں ہے اور نہ ایسا انسان واقعی مجاہد کہے جانے کے قابل ہے۔ اس کا مطب یہ ہوا کہ جھاد کے چاروں میدانوں میں اگر کوئی کام کرے تو جھاد کا حق ادا ہوگا وگرنہ تنہا امرونہی سے نہ کوئی مجاہد بنتا ہے اور نہ کوئی مبلغ اسلام۔ میرا سوال ان مبلغان سے ہے جو صرف امر و نھی کو ہی جھاد اور اپنا فریضہ سمجھتے ہیں جبکہ باقی دو میدان کو مکمل نظر انداز کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کی تنہا امر و نہی میں کوئی مشکل اور پریشانی نہیں ہے، جبکہ قتال اور فاسقوں سے نفرت و عداوت کے میدان میں جان کی بازی لگانا اور فاسقوں سے نفرت کے میدان میں ہر ایک کی دشمنی مول لینا پڑتی ہے۔

نتیجتا مبلغان دین اور مفتیان اسلام تنہا امر و نھی کرنے میں ہی اپنی بقا سمجھتے ہیں اور تنہا امر و نھی کا فائدہ اتنا نہیں ہوتا جتنا باقی دومیدانوں میں (قتال و فاسقوں سے نفرت) کے میدان کا فائدہ ہوتا ہے۔ قتال اور فاسقوں سے نفرت و عداوت کے میدان کو ترک کرنے کی وجہ سے انسانی معاشروں میں فاسق و فاجر کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور اگر فاسقوں  سے نفرت کے قرآنی اور نبوی نسخے پر عالم اسلام کے مسلمان اور علمائے اسلام عمل پیرا ہوں تو انسانی معاشرہ جنت نظیر بن جائے اور انسانی معاشرے میں جرائم و کرائم میں نمایاں کمی واقع ہو جائے، وگرنہ صرف مزمتی بیان یا جمعے کے خطبوں میں تذکرہ کرنے سے نہ کوئی مجاھد بنتا ہے اور نہ کسی کی ذمہ داری ادا ہوتی ہے مگر ان دو میدانوں میں کودنے کے لئے پیغمبر اکرم (ص) جیسا دل اور سینہ، اخلاص اور کردار چاہیئے۔ حضرت علی (ع) جیسے حاکم اور مبلغ کی ضرورت ہے۔ پس اسلام اور ایمان میں یہ فرق ہے کہ اسلام ظاہری شکل اور زبانی اقرار کا نام ہے، جبکہ ایمان دل کی ایک باطنی کیفیت کا نام ہے اسی وجہ سے حکیم امت نے فرمایا تھا:زبان سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں  اب ہر مسلمان کو دیکھنا ہوگا کہ وہ صرف مسلم ہے یا مومن بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں