مقصد حیات انسانی

تحریر: شیخ فدا علی ذیشان
سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم ضلع سکردو

انسان دو قسم کی زندگی گزارتا ہے، ایک جسم اور بدن کی زندگی اور دوسرا روح اور عقل کی زندگی۔ جسم انسانی پر چھ حالات میں سے ایک حالت طاری ضرور رہتی ہے کہ جسم انسانی کے لئے یا موت ہے یا حیات، جسم انسانی کے لئے صحت ہے یا سقم اور جسم انسانی کے لئے بیداری ہے یا غفلت۔ جسم انسانی کے لئے تب تک حیات ہے جب تک روح اور جسم کا آپس میں تعلق اور رابطہ قائم ہے، اگر روح اور جسم میں جدائی اور تعلق ٹوٹ جائے تو جسم انسان کو موت طاری ہو جائے۔

خداوند عالم نے کائنات کو خلق فرمایا اور اس کائنات میں انسان کو بہترین شکل و صورت کے ساتھ خلق فرمایا۔ انسان کو خَلق اورخُلق (ظاہر اور باطن) سے مرکب بنایا۔ خَلق کو خود احسن الخالقین نے بہترین صورت اور حُسن کے ساتھ بنایا کہ “لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم” ہم نے انسان کو بہترین نظام کے ساتھ خلق کیا۔ اسی طرح ایک اور جگہ پہ قرآن میں اشارہ ہوا ہے کہ “ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء” وہ خدا جو تمہاری تصویر بناتا ہے شکم مادر میں جیسے وہ چاہتا ہے، جبکہ دنیا میں اس لئے بھیجا تاکہ انسان اپنے خُلق کو حسین و جمیل بنا دے۔ انسان کے ظاہر کو خوبصورت اورحسین بنانے کا طریقہ مختلف کریموں کا استعمال ہے، جبکہ باطن کو حسین بنانے کا طریقہ تزکیہ نفس ہے۔ جس طرح انسان کو خَلق اور خُلق سے مرکب کیا، ویسے ہی انسان کو مختلف قوتوں اور صلاحیتوں کا مجموعہ بھی بنایا۔ جہان انسان عقل رکھتا ہے وہاں انسان قوت غضبیہ اور قوت شہویہ کا مالک بھی ہے، جس کی بنا پر انسان کو حیوان ناطق کہا گیا ہے۔

اسی وجہ سے انسان دو قسم کی زندگی گزارتا ہے، ایک جسم اور بدن کی زندگی اور دوسرا روح اور عقل کی زندگی۔ جسم انسانی پر چھ حالات میں سے ایک حالت طاری ضرور رہتی ہے کہ جسم انسانی  کے لئے یا موت ہے یا حیات، جسم انسانی کے لئے صحت ہے یا سقم اور جسم انسانی کے لئے بیداری ہے یا غفلت۔ جسم انسانی کے لئے تب تک حیات ہے جب تک روح اور جسم کا آپس میں تعلق اور رابطہ قائم ہے، اگر روح اور جسم میں جدائی اور تعلق ٹوٹ جائے تو جسم انسان کو موت طاری ہو جائے۔ اسی طرح جسم انسان کی صحت کی علامت اس کا متوزان اور معیاری خوراک کا استعمال ہے۔ وہ بہترین غذا استعمال کرتا ہے لیکن اگر جسم بیمار ہو جائے تو انسان سے کھانا نہیں کھایا جاتا۔ کھانا نہ کھایا جانا اور قے آنا جسم کے بیمار ہونے کی علامت ہے۔ اسی طرح انسان کا جسم بیدار ہوتا ہے جب تک اس پر نیند طاری نہ ہو، لیکن اگر نیند طاری ہو جائے تو انسان کے جسم پر غفلت طاری ہو جاتی ہے۔ پس حیات، صحت اور بیداری کے ساتھ جو زندگی بسر کرتا ہے اس کو جسمانی زندگی کہا جاتا ہے، جس طرح انسان کا جسم ان چھ حالات میں سے ایک میں مبتلا رہتا ہے۔

ویسے ہی روح انسان پر بھی ان چھ حالات میں سے ایک حالت طاری ہوتی ہے کہ انسان کی روح کے لئے یاحیات ہے یا موت، صحت ہے یا بیماری اور بیداری ہے یا غفلت۔ جب تک روح کا تعلق کمال مطلق سے قائم ہے تب تک روح کے لئے حیات ہے، اور جب روح کا رابطہ کمال مطلق سے کٹ جائے تو روح انسان پر موت آتی ہے۔ اسی طرح علم و عمل روح کی زندگی ہے اور یقین روح کی صحت ہے جبکی شک روح کی بیماری ہے۔ جسم انسان قتل ہوتا ہے تلوار، گولی اور زہر سے جبکی روح انسان گناہ سے قتل ہوتی ہے، جس طرح دعا کا جملہ ہے کہ “و امات قلبی عظیم جنایتی”، خدایا! میری روح اور قلب کو میرے بڑے بڑے گناہوں نے قتل اور مار دیا۔ پس انسان اگر بدن کی زندگی بسر کرتا ہے تو اس زندگی کو جسمانی زندگی کہا جاتا ہے، جبکہ اگر روح کی حیات، صحت اور بیداری کی ذندگی گزارے، تو اس کو روحانی زندگی کہا جاتا ہے۔ جسمانی زندگی میں جب مادی غذا استعمال کرتا ہے، تو جسمانی لذت حاصل ہوتی ہے جبکہ جسمانی لذت وقتی اور عارضی ہوا کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں روحانی لذت دائمی اور ابدی ہوتی ہے جس طرح حدیث میں آیا ہے کہ”شتان ما بین عملین، عمل تذھب لذتہ و تبقی تبعتہ و عمل تذھب موونتہ ویبقی اجرہ۔” کہ کس قدر فاصلہ پایا جاتا ہے دو عمل کے درمیان، کہ ایک وہ جس کی لذت ختم ہو جائے اور وبال باقی رہ جائے، دوسرا وہ عمل جس کی مشقت ختم ہو اور اس کا اجر باقی رہ جائے۔

دین ہمیں جسم اور روح دونوں کے تقاضوں کو پورا کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ جہاں انسان کیلئے بہترین جسمانی زندگی گزارنا ضروری ہے، وہاں انسان روحانی زندگی بھی بسر کرے تاکہ جسم اور روح میں توازن برقرار رہے۔ مگر جسمانی زندگی بھی دینی تعلیمات کی روشنی میں ہی گزارے تاکہ پاکیزہ زندگی گزار سکے۔ یہاں سے دین کی اہمیت اور ضرورت کا احساس ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں دین کا بڑا دخل ہے، دین نے ہی انسانوں کو زندگی گزارنے کا طریقہ اور دنیا و آخرت سنوارنے کا سلیقہ سکھایا ہے، اور انسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے احکام خدا کی پابندی کو ضروری اور حلال راستے سے خواہشات کی تکمیل کی تاکید کی ہے تاکہ اس کی زندگی بھی مقدس ہو اور حیوانوں سے جدا زندگی گزارے۔ اور اگر انسان اپنی خواہشات کو بے لگام چھوڑ دے تو انسان حیوان سے بدتر ہو جائے۔ مثلا اگر قوت غضبیہ کو بے لگام چھوڑ دیا جائے تو انسان درندہ بن جائے بلکہ درندہ سے بھی بدتر ہو جائے۔ اب یہ بات طے ہوگئی کہ انسان ظاہر و باطن سے مرکب ہے اور انسان مختلف قوتوں کا حامل بھی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی خلقت کا مقصد اور ہدف کیا۔؟

جب ہم اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں تو ہمیں دنیا میں مختلف نظریات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں مگر جب ہم انسان اور اس کائنات کے خالق کے کلام کو دیکھتے اور پڑھتے ہیں تو ہمیں واضح اور اہم تفصیلی جواب ملتا ہے جس طرح مختلف آیات میں خلقت انسانی کے مراحل کو بیان فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی کے نچوڑ سے پیدا کیا اس کو نطفہ پھر علقہ اور پھر مضغہ بنایا۔ (سورہ مومنون، سورہ واقعہ، سورہ طارق اور سورہ ہل اتی۔) “ہل اتی علی الانسن حین من الدھر لم یکن شیئا مذکورا انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج نبتلیہ فجعلناہ سمیعا بصیرا”۔ ان تمام آیات کا لب لباب یہ ہے کہ انسان کا اغاز نجاست سے ہوا دنیا میں اس لئے بھیجا تاکہ طہارت کی منزل کو پہنچ جائے۔ انسان کو خاک سے پیدا کیا، دنیا میں اس لئے بھیجا تاکہ خدا تک کا سفر طے کرے۔ اب خاک سے خدا تک کا سفر طے کرنے کے لئے دینی احکام کو بجا لانا ہو گا اور تعلیمات قرآن کو انسانی معاشرے میں احیا کرنا ہوگا اور قرآنی زندگی قرانی جوان اور قرآنی معاشرہ تشکیل دینا ہوگا تاکہ خاک سے خدا تک کا سفر آسانی طے کیا جا سکے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ دین انسان کی دنیا کو جنت بنانے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ دین کا تعلق دنیا اور اخرت دونوں سے ہے۔ اگر دین میں سیاست نہ ہو تو دین نامکمل اور ناقص ہے، کیونکہ انسانی معاشرے کے لئے سیاست کا ہونا ضروری ہے اور سیاست کا مفہوم وہ نہیں ہے جو آج کل عالم اسلام میں رائج ہے بلکہ سیاست سے مرادانسانی معاشرے کو الٰہی اور اسلامی اصولوں اور قوانین کے مطابق استوار کرنا ہے۔

جس میں تمام افراد کی ذمہ داری اور تمام حکام کے فرائض متعین ہوں اور ہرکوئی اپنی ذمہ داری کو ادا کرے۔ اگرسیاست کا مفہوم یہ ہے تو یہ عبادت ہے۔ جو لوگ یا علماء یہ کہتے ہوں کہ ہم نہ سیاسی ہیں اورنہ ہمیں سیاست آتی ہے تو وہ خیانت کرتے ہیں۔ جبکہ نماز جمعہ ایک سیاسی عبادت ہے جس میں امام جمعہ کے لئے حکم ہے کہ دوسرا خطبہ پورے کا پورا سیاسی ہو۔ جس میں عالم اسلام، ملکی اور علاقائی مسائل زیربحث لائے اور اس کے لئے راہ حل بیان ہو اور اس میں اگلے پورے ہفتے کے لئے حکمت عملی اور پالیسی بیان کرے اور امام جمعہ حکم کرنے کے لئے ہوتا ہے نہ کہ مطالبہ کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ بہرحال قرآن عالمگیر آئین اور انسانی معاشرے کے قوانین بیان کرتا ہے، تاکہ انسان رشد و ہدایت اور معراج بندگی کے آخری کمال کو پہنج جائے اور انسان جو انسان بننے کی صلاحیت لے کے پیدا ہوا تھا وہ انسان بن جائے اور انسان رہے پھر دنیا سے انسان مرے اور انسان کو اس کے ہدف تک پہنچانے کے لئے اسلام کا ایک روزانہ کا پروگرام ہے، جوکہ نماز ہے اور ایک ہفتہ وار پروگرام نماز جمعہ ہے اور سالانہ پرگرام حج بیت اللہ ہے۔ اور یہ پروگرام یا جسمانی ہے یامالی ہے۔ جب انسان ان پروگرام کو عملی جامہ پہناتا ہے تو آہستہ آہستہ حیات  روحانی میں قدم رکھتا جاتا ہے۔
نہ تو زمین کے لئے اورنہ آسمان کے لئے
جہان ہے ترے لئے تو نہیں جہان کے لئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں