فرینکفرٹ میں دنیا کا سب سے بڑا ”کتابوں کا میلہ“

پچھلے 70 برس سے فرینکفرٹ میں ہونے والے اس کتابی میلے میں امسال دنیا بھر سے 100 ملکوں سے آئے 7500 کتاب اور نشر و اشاعت سے متعلقہ اداروں نے 4 لاکھ علمی شہ پارے اپنے خوبصور ت اسٹالز پر دیدہ زیب انداز میں سجا کر پیش کئے

فرینکفرٹ(سیّد اقبال حیدر) اکتوبر کے ماہ میں ہر سال دنیا کا سب سے بڑا ”بک فئیر“ فرینکفرٹ میں ہوتا ہے،یہ کتابی میلہ1949 میں پہلی مرتبہ ہوا۔پچھلے 70 برس سے فرینکفرٹ میں ہونے والے اس کتابی میلے میں امسال دنیا بھر سے 100 ملکوں سے آئے 7500 کتاب اور نشر و اشاعت سے متعلقہ اداروں نے 4 لاکھ علمی شہ پارے اپنے خوبصور ت اسٹالز پر دیدہ زیب انداز میں سجا کر پیش کئے۔ جنہیں دلچسپی رکھنے والے لگ بھگ2,85,000 افراد نے دیکھا اور سراہا،کتابی میلے میں دنیا بھر سے شاعر،ادیب،پبلشرز،بک سیلیز،لائیبریوں کے منتظمین و مالکان کے علاوہ معروف فنکاروں کی شرکت نے میلے کی رونق کو چارچاند لگا دئے،کاغذ کی کتاب سے آن لائن کتابوں کی فراہمی کے لئے اسٹالز پرآفرز نے مشاہدین کو بہت متاثر کیا،دنیا بھر کے ٹی وی چینلز اوراخبار وں نے بھی میلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مارکیٹنگ کی۔ پاکستان سے پرائیویٹ پبلشنگ کے صرف دو اسٹالز تھے جن میں پیراماؤنٹ بُکس پرائیویٹ لمیٹڈ نے اپنی کتابوں کی بھرپورر انداز اپنی انگلش اور اردو کتابوں کو خوبصورت انداز میں سجا کر آنے والوں کو متاثر کیا،ان کے ڈائیریکٹر زین العابدین جنرل منیجر عبدالقادر یورپین گاہکوں سے متاثر کن لب و لہجے میں اپنی کتابوں سے متعارف کروا رہے تھے،پڑوسی ممالک سے ہندوستان چین اور بنگلہ دیش سے کثیر تعداد میں پبلشنگ اور متعلقہ شعبوں کے بڑی تعداد میں اسٹالز کتابوں سے سجا کر ان کے نمائیندے مغربی ممالک کے خریداروں سے لمبے آرڈرز لینے میں کامیاب نظر آ رہے تھے،میلے میں ہر قسم کی ایجوکیشن کے علاوہ کچن اور بچوں کی کہانیوں اور کارٹون کی کتابوں کی بھی خوب مارکیٹنگ ہوئی۔دنیا کہ اس بڑے کتابوں کے میلے میں پاکستان کی مایوس کن نمائیندگی سے پاکستانی شرکاء نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرینکفرٹ کے اس بک فیر سے دیگر ایشین ممالک ہر سال کروڑوں یورو کا بزنس اپنے ممالک میں لیکر جاتے ہیں مگر پاکستان حکومت اس اہم صنعت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہی،یورپ اور امریکہ کے بڑے ادارے اپنی کتابیں چین ہندوستان اور دیگر ممالک میں چھپوا کر فروخت کر رہے ہیں،ہمارے ملک کو دھرنوں اور ریلیوں سے نجات ملے تو ہمارے پبلشر بھی پاکستان میں یورپ بھر کی معیاری کتابیں چھاپ کر ملک کو کثیر زرمبادلہ فراہم کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں