فرینکفرٹ میں کرد شہریوں کا سیریا میں بمباری کے خلاف مظاہرہ

مظاہرے میں کردوں کے علاوہ سعودی،ایرانی اور دیگر عرب ممالک کے شہریوں نے حصہ لیا،

فرینکفرٹ(سیّد اقبال حیدر)فرینکفرٹ میں مقیم کردوں کی بڑی تعداد نے سیریا میں کردوں کی اکثریتی آبادی پر بمباری سے ہونے والی ہلاکتوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فرینکفرٹ کے مرکز میں پُرامن احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا،مظاہرے میں کردوں کے علاوہ سعودی،ایرانی اور دیگر عرب ممالک کے شہریوں نے حصہ لیا،مظاہرین میں صدر اردگان کی جابررانہ پالیسیوں کے خلاف خواتین اور بچوں نے بڑی تعداد میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے،مظاہرے میں شرکاء نے ترک حکمرانوں کے ساتھ ساتھ امریکن صدر ٹرمپ کے خلاف بھی شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے نعرے لگائے، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کرد رہنماؤں نے کہابے گناہوں کا قتل عام ترک صدر اردگان کے زوال کا سبب بنے گا،امریکی افواج کا ایک دن پہلے اس علاقے سے انخلا اور دوسرے دن فضائی حملہ انتہائی معنی خیز ہے یہ فضائی حملہ صدر ٹرمپ اور اردگان حکومت کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے،ترک صدر کاکردوں پر دہشت گردی کا الزام بلکل بے بنیاد ہے جبکہ کرد برسوں سے اپنے کرد علاقوں پر اپنی آزادکرد ریاست کے قیام لئے پُرامن جدوجہد کر رہے ہیں اور انکی اس جدوجہد کو دہشت گردی کانا م دیکر انھیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے کا منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا،کرد اپنی آزاد ریاست کے قیام کے لئے جدوجہد کرتے رہیں گے، مظاہرین نے سعودی عرب، ایران،جرمنی،فرانس اور حملے کی مذمت کرنے والے دیگر ممالک کے لئے اظہار تشکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں