تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی صدر کا بھارتی انتہا پسندی کا اعتراف

امریکی صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت نے انسداد دہشت گردی کی جنگ میں کچھ بھی نہیں کیا۔امریکی صدر کا کہنا ہے کہ امریکا افغانستان سے نکلنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، شدت پسندی کے خلاف جنگ کی ذمہ داری دیگر ممالک اٹھائیں۔

صحافیوں سے گفتگو کے دوران عراق میں داعش کے دوبارہ ابھرنے کے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ریکارڈ مدت میں داعش کی خلافت کا 100 فیصد خاتمہ کر دیا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ نے داعش کے گرفتار یورپی جنگجوؤں کو واپس نہ لینے پر فرانس اور جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ ممالک اپنے جنگجوؤں کو واپس نہیں لیں گے تو امریکا انہیں رہا کرکے ان کے ملکوں میں بھیج دے گا،ان کا کہنا تھا کہ روس، افغانستان، ایران، عراق اور ترکی کسی نہ کسی حد تک یہ جنگ لڑ رہے ہیں لیکن فرنٹ لائن ممالک کے طور پر بھارت اور پاکستان جہادی گروپوں کے خلاف کچھ زیادہ نہیں کر رہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ بھارت جہادی گروپوں سے جنگ نہیں کررہا، پاکستان جہادی گروپوں سے لڑ رہا ہے لیکن بہت کم، یہ غیر منصفانہ ہے کیونکہ امریکا سات ہزار میل دور ہے،امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے اسرائیل کی جتنی مدد کی ہے وہ کسی امریکی صدر نے نہیں کی۔

ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ڈیموکریٹس کو ووٹ دینا اسرائیل کے خلاف ووٹ دینا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں