عمران خان ملک کے 22ویں وزیر اعظم منتخب

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان ملک کے 22ویں وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قائد ایوان کے لیے ہونے والی رائے دہی کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان نے 176 اراکین کی حمایت حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو رائے دہی میں 96 ووٹ ملے۔

عمران خان کو پی ٹی آئی اراکین کے 151، ایم کیو ایم کے 7، مسلم لیگ (ق) کے 3، جی ڈی اے کے 3، بی این پی کے 4، بی اے پی کے 5، جمہوری وطن پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کا ایک، ایک جبکہ 2 آزاد اراکین کے ووٹ ملے۔

قانون کے تحت اسپیکر نے رائے دہی کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔

نتائج کے اعلان کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے عمران خان کی نشست کے سامنے احتجاج کیا اور ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے لگائے۔

تحریک انصاف کے ارکان نے بھی جوابی نعرے بازی کی۔

اس موقع پر اسپیکر نے ارکان کو خاموش رہنے اور نعرے بازی نہ کرنے کی ہدایت کی۔

اسد قیصر نے گیلری میں موجود لوگوں کو بھی نعرے بازی نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے انتباہ کیا کہ نعرے لگانے والے مہمانوں کو گیلری سے نکال دیا جائے گا۔

شدید شور شرابے اور نعرے بازی کے بعد پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی ہال سے باہر چلے گئے۔

پیپلز پارٹی کے اراکین نے انتخابی عمل میں بھی حصہ نہیں لیا اور رائے دہی کے دوران وہ اپنی نشستوں پر ہی بیٹھے رہے، جبکہ جماعت اسلامی نے بھی انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا۔

عمران خان کے وزیر عظم منتخب ہوتے ہی پی ٹی آئی کارکنان نے پارلیمنٹ کے باہر نعرے بازی کی اور تحریک انصاف اور نومنتخب وزیر اعظم کے حق میں نعرے لگائے۔

پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر مٹھائی بھی تقسیم کی گئی۔

نعرے بازی روکنے کیلئے پرویز خٹک کی شہباز شریف سے ملاقات

مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی جانب سے شدید احتجاج اور نعرے بازی کو روکنے کے لیے پی ٹی آئی رہنما پرویز خٹک نے شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں منانے کی کوشش کی۔

اس دوران پریز خٹک اور لیگی رہنما خواجہ آصف خوش گپیاں کرتے بھی دکھائی دیئے۔

اسپیکر نے اسمبلی اجلاس کی کارروائی 15 منٹ کے لیے موخر کرتے ہوئے پارلیمانی رہنماؤں کو اپنے چیمبر میں بلا لیا۔

قائد ایوان کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس ساڑھے 3 بجے شروع ہونا تھا، تاہم اجلاس ایک گھنٹے کی تاخیر کے بعد ساڑھے 4 بجے شروع ہوا۔

اجلاس کے آغاز پر اراکین اسمبلی کی آمد کے ساتھ ہی مہمانوں کی گیلری میں ضرورت سے زائد افراد کی موجودگی کے باعث بدنظمی بھی دیکھنے میں آئی اور مختلف افراد نے پریس گیلری کے ذریعے پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر اپوزیشن کے ارکان کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے آغاز پر مسلم لیگ(ن) کے رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ پہلے دن ہی ایوان کے تقدس کو پامال کیا گیا، آپ ہمارے بھی اسپیکر ہیں، سب کو ساتھ لے کر چلیں۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رکن خورشید شاہ نے بھی گیلریوں میں کھڑے افراد پر اعتراض کیا اور کہا کہ انہیں باہر نکالا جائے۔

جس کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے سیکیورٹی اسٹاف کو اسمبلی ہال کے راستے میں کھڑے لوگوں کو باہر نکالنے کی ہدایت کردی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی، تاہم اسپیکر اسمبلی اسد قیصد کے انتباہ کے بعد صورتحال بہتر ہوگئی۔

ان تمام صورتحال کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے طریقہ کار سے آگاہ کیا اور اراکین کو ایوان میں لانے کے لیے 5 منٹ تک گھنٹی بجائی گئی، جس کے بعد ایوان کے دروازے بند کردیے گئے۔

اس عمل کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر نے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے ایوان کو 2 حصوں میں تقسیم کیا اور بتایا کہ عمران خان کے حامی اراکین دائیں جانب جبکہ شہباز شریف کے حامی اراکین بائیں جانب لابی میں چلیں جائیں۔

تاہم اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے اراکین اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے اور وزیر اعظم کے انتخاب کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔

اس موقع پر ایک دلچسپ لمحہ یہ دیکھنے میں آیا کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما ایاز صادق، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پاس گئے اور ووٹنگ کے لیے انہیں منانے کی کوشش کی، تاہم ان کی یہ کوشش رائیگاں گئی۔

خیال رہے کہ نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے 342 ارکان کے ایوان میں 172 ارکان کی واضح اکثریت ملنا ضروری ہے۔

اراکین اسمبلی کی آمد

قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے عمران خان دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے، جہاں ان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس کے بعد جب تحریک انصاف کے سربراہ قومی اسمبلی میں داخل ہوئے تو مہمانوں کی گیلری میں موجود افراد اور اراکین اسمبلی کی جانب سے ’وزیز اعظم عمران خان‘ کے نعرے بازی بھی کی گئی اور ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا گیا۔

اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وزیر اعظم کے امیدوار شہباز شریف بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔

قومی اسمبلی میں آمد کے موقع پر شہباز شریف نے اتحادیوں اور مخالفین سے بھی ملے اور انہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے پاس گئے، جہاں عمران خان نے اٹھ کر ان سے مصافحہ کیا۔

ساتھ ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے بلاول بھٹو زرداری بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایوان میں موجود تھے۔

عمران خان کی زیر صدارت اہم اجلاس

قائد ایوان کے انتخاب سے قبل تحریک انصاف اور اتحادیوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد جبکہ بلوچستان نینشل پارٹی (بی این پی) کے سردار اختر مینگل بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں قائد ایوان کے انتخاب کے حوالے سے حکمت عملی زیر غور آئی اور اپوزیشن کےممکنہ احتجاج سے متعلق بھی مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے مختصر خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا اعلان اجلاس کے بعد کروں گا، آخری گیند تک میچ فکسنگ نہیں ہوگی اور آج جدوجہد کا اہم مرحلہ مکمل ہوگا۔

اسپیکر کے زیر صدارت اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس

قائد ایوان کے انتخاب سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا بھی اجلاس ہوا۔

اجلاس میں اپوزیشن کے رہنماؤں کو ایوان کی آج کی کارروائی کے حوالے سے اعتماد میں لیا گیا۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ایوان کی کارروائی تمام جماعتوں کی مشاورت سے چلائی جائے گی، ایوان کی کارروائی میں پارلیمانی روایات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا اور وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر قواعد اور سابقہ پارلیمانی روایات پر عمل کیا جائے گا۔

پارلیمانی رہنماؤں نے اسپیکر قومی اسمبلی کے اقدامات کو سر اہا۔

اجلاس میں فواد چوہدری، علی زیدی، مولانا کمال الدین، مولانا عبد الواسع، نوید قمر اور رانا تنویر حسین نے شرکت کی۔

بدعنوان قانون کے شکنجے میں ہوں گے، شیخ رشید

قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے قبل شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ طے ہوچکا ہے کہ عمران خان وزیر اعظم ہوں گے اور 120 دن میں بہت سے بدعنوان قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے کیونکہ اگر امیدیں پوری نہ کی تو 10 کروڑ ووٹرز کا سمندر عمران خان کی جانب دیکھ رہا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس آمد کے موقع پر سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ جو انتخاب لڑتا ہے اس کا ایک منشور ہوتا ہے لیکن یہاں ایک غلط مثال بن رہی تھی کہ مختلف منشور سے آنے والے ایک ہوجاتے تھے اور جو وعدہ کرتے ہیں وہ پورا نہیں کرتے۔

پارلیمنٹ ہاؤس آمد کے موقع پر سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جو انتخاب لڑتا ہے اس کا ایک منشور ہوتا ہے لیکن یہاں ایک غلط مثال بن رہی تھی کہ مختلف منشور سے آنے والے ایک ہوجاتے تھے اور جو وعدہ کرتے ہیں وہ پورا نہیں کرتے۔

قومی اسمبلی آمد کے موقع پر تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کی بہتری اور تبدیلی کے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کسی بھی ملک کی شہہ رگ کی طرح ہوتی ہے لیکن جو اس شہہ رگ کے حالات ہیں وہ سب کو پتہ ہے لیکن اس قوم اور معیشت میں بہت جان ہے اور انشاء اللہ آنے والے دنوں صحیح فیصلے ہوں گے۔

پی ٹی آئی اراکین کی اکثریت

ایوان زیریں میں تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور ان کی جنرل نشستوں کے ساتھ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی تعداد 151 ہے۔

تاہم وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے مطلوبہ ارکان کی تعداد تک پہنچنے کے لیے تحریک انصاف کو اپنے اتحادیوں کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے وہ پہلے ہی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے 7، مسلم لیگ (ق) کے 3، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے 3، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے 5، بی این پی کے 5 اراکین، عوامی مسلم لیگ کے ایک، جمہوری وطن پارٹی کے ایک رکن اور 4 آزاد ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل کرچکے ہیں۔

اگر انتخاب کے وقت یہ تمام ارکان کے ووٹ کو تحریک انصاف کے حق میں شامل کیا جائے تو وزیر اعظم کے امیدوار عمران خان کے ووٹوں کی عددی حیثیت 180 تک پہنچ سکتی ہے اور وہ باآسانی وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔

دوسری جانب مخصوص نشستوں کے ساتھ مسلم لیگ (ن) 81 اراکین کے ساتھ دوسری جبکہ پیپلز پارٹی 53 نشستوں کے ساتھ تیسرے پوزیشن پر ہیں، اس کے ساتھ ساتھ متحدہ مجلس عمل قومی اسمبلی میں ایک اقلیتی نشست اور 2 خواتین کی نشستیں حاصل کرکے 15 نشتیں حاصل کرچکی ہے جبکہ اے این پی کا ایک رکن قومی اسمبلی میں موجود ہے۔

تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ گرینڈ اپوزیشن میں شامل پیپلزپارٹی وزیر اعظم کے لیے شہباز شریف کو ووٹ دینے سے انکار کرچکی ہے۔

پیپلز پارٹی کا شہباز شریف کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ

قائد ایوان کے انتخاب سے قبل ایک اہم موڑ اس وقت سامنے آیا، جب پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب میں شہباز شریف کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہ بننے کا اعلان کیا۔

گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ پی پی قیادت نے شہباز شریف کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کرنے پر تحفظات سے متعلق مسلم لیگ (ن) کو آگاہ کیا تھا، تحفظات دور نہ ہونے کی صورت میں وزیراعظم کے لیے ہونے والے ووٹنگ کے عمل کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا گیا۔

ادھر دینی جماعتوں کے سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعت اسلامی نے بھی مرکزی مجلس شوری کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کسی امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا۔

جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات قیصر شریف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’جماعت اسلامی کسی سیاسی جماعت کو کندھا دینے کے بجائے اپنی نظریاتی لڑائی خود لڑے گی‘۔

اس تمام صورتحال کے بعد مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعظم کا انتخاب جیتنا مزید مشکل ہوگیا اور ایون میں ان کے حق میں پیپلز پارٹی 53 نشتیں کم ہوجانے کے بعد ہم خیال جماعتوں کے ارکان کو ملا کر بھی ان کے پاس 100 ارکان موجود نہیں تھے۔

ایوان زیریں میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا گیا تھا، جس میں تحریک انصاف کے امیدوار اسد قیصر بطور اسپیکر جبکہ قاسم سوری ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے تھے۔

قومی اسمبلی میں اسد قیصر نے 176 ووٹ جبکہ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار خورشید شاہ کو 146 ووٹ ملے تھے، اس طرح اسد قیصر 30 ووٹوں کی برتری سے اسپیکر منتخب ہوئے تھے۔

ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں تحریک اںصاف کے امیدوار قاسم سوری کو 183 ووٹ ملے جبکہ اپوزیشن اتحاد کے امیدوار اسد محمود نے 144 ووٹ حاصل کیے تھے۔

وزیر اعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

قومی اسمبلی میں رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس 2007 کے دوسرے شیڈول کے مطابق وزیر اعظم کا انتخاب اراکین قومی اسمبلی کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کے ایک اسلامی جمہوریہ ہونے کی وجہ سے حکومت کے سربراہ کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔

وزیر اعظم کے انتخاب میں حصہ لینے والے امیدوار کو انتخاب سے ایک روز قبل دوپہر 2 بجے تک کاغذات نامزدگی جمع کرانے ہوتے ہیں، جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی ان نامزدگیوں کا تعین کرتے ہیں۔

اگر کوئی امیدوار انتخاب سے قبل اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینا چاہے تو وہ کس بھی لمحے انہیں واپس لے سکتا ہے۔

تاہم ملک کے 22ویں وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے صرف 2 امیدوار عمران خان اور شہباز شریف نے ہی کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے، جو منظور بھی ہوئے۔

قوانین

وزیر اعظم کے لیے ووٹنگ سے قبل قومی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے ہدایت دی جاتی ہیں کہ 5 منٹ تک گھنٹی بجائی جائے تاکہ ایوان میں موجود نہ ہونے والے اراکین ایوان میں آسکیں، اس کے فوری بعد گھنٹی روک دی جاتی ہے اور اسمبلی اسٹاف لابی کے تمام داخلی اور خارجی راستے پر تعینات ہوجاتے ہیں اور ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے تک کسی کو آنے اور جانے کی اجازت نہیں ہوتی‘۔

اگلا مرحلہ

قومی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے نامزد امیدواروں کے نام کو اسمبلی ارکان کے سامنے پکارا جاتا ہے اور پھر دوسرے شیڈول میں موجود طریقہ کار کے ذریعے انتخاب کا عمل آگے بڑھایا جاتا ہے۔

ووٹنگ کا عمل

اسپیکر کی جانب سے اراکین اسمبلی سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے پسند کے امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے ایک داخلی مقام سے جاکر شمار کنندہ کے پاس اپنا ووٹ ریکارڈ کروائیں۔

اس کے بعد شمار کنندہ کی ڈیسک پر پہنچ کر ہر رکن اسمبلی اپنا ڈویژن نمبر پکارتا ہے، جو اسے قانون کے تحت دیا گیا ہوگا، جس کے بعد شمار کنندہ ڈویژن فہرست میں اس رکن اسمبلی کے نمبر پر نشان لگائے گا اور ساتھ ہی اس کا نام پکارے گا۔

ووٹ کے صحیح طریقے سے ریکارڈ کیے جانے کو یقینی بنانے کے لیے رکن اسمبلی تب تک اس جگہ سے واپس نہیں آسکے گا جب تک وہ شمار کنندہ کی جانب سے پکارے گئے اپنے نام کو واضح نہیں سن لیتا۔

ووٹ ریکارڈ کرانے کے بعد وہ رکن اسمبلی تب تک چیمبر میں داخل نہیں ہوسکے گا جب تک دوبارہ گھنٹی نہیں بجائی جاتی۔

ووٹنگ کا اختتام

مندرجہ بالا عمل مکمل ہونے کے بعد اسپیکر اسمبلی کی جانب سے اس بات پر اطیمنان کرنے کے بعد کہ تمام اراکین نے ووٹ ڈال دیا، وہ ووٹنگ کے عمل کے اختتام کا اعلان کریں گے۔

اس کے ساتھ ہی سیکریٹری ڈویژن فہرست حاصل کرکے ووٹوں کی گنتی کریں گے اور نتائج اسپیکر کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پھر اسپیکر کی جانب سے ہدایت دی جائے گی کہ 2 منٹ تک گھنٹی بجائی جائے تاکہ تمام ارکان چیمبر میں آسکیں، اس کے بعد گھنٹی روک دی جائے گی اور اسپیکر کی جانب سے نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

اگر کوئی ایک امیدوار مطلوبہ تعداد کے مطابق ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اسپیکر کی جانب سے اس کے منتخب ہونے کا اعلان کردیا جائے گا۔

تاہم اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

اگر وزیراعظم کے 2 یا اس سے زائد امیدوار ہوں گے اور کوئی امیدوار پہلی مرتبہ پولنگ میں واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکے تو دوسرے انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے 2 امیدواروں میں مقابلہ ہوگا اور جو رکن قومی اسمبلی زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا اسے وزیراعظم منتخب کرلیا جائے گا۔

تاہم اگر 2 یا اس سے زائد امیدواروں کے درمیان ووٹنگ میں امیدواروں کے ووٹوں کی تعداد برابر ہوگی تو اس وقت تک دوبارہ پولنگ کی جائے گی جب تک ایک امیدوار اکثریت حاصل نہیں کرلیتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں