عمران خان، بلاول بھٹو، شہباز شریف سمیت دیگر اراکین نے حلف اٹھالیا

اسلام آباد: حالیہ انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر نو منتخب اراکین اسمبلی نے حلف اٹھا لیا۔

پاکستان کی تاریخ میں مسلسل تیسری بار منتخب حکومت کی جانب سے اقتدار منتقل کرنے کے تاریخ ساز دن پر قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز قومی ترانے سے ہوا جس کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کی گئی اور اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

مجموعی طور پر ملک کی 15ویں قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اسپیکر ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے 342 اراکین میں سے 328 ارکان سے حلف لیا۔

واضح رہے کہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے 2 حلقوں پر انتخاب نہیں ہوسکا تھا جبکہ 8 امیدواروں نے اپنی زائد نشستیں چھوڑ دی تھیں، اس کے علاوہ خاتون کی ایک مخصوص نشست پر کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا تھا۔

اس کے علاوہ جھنگ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ محبوب سلطان والدہ کے انتقال کے باعث اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے۔

نومنتخب اراکین سے حلف لینے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے اردو حروف تہجی کے تحت اراکین کو ’رول آف ممبر‘ پر دستخط کے لیے بلایا اور سب سے پہلے سابق صدر آصف علی زرداری کا نام پکارا گیا۔

علاوہ ازیں قومی اسمبلی کے علاوہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس بھی ہوئے، جس میں اراکین صوبائی اسمبلی نے حلف اٹھا لیا۔

آج ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں نومنتخب اراکین کی حلف برداری اور رول آف ممبر پر دستخط کا عمل مکمل ہونے کے بعد اجلاس بدھ 15 اگست کی صبح 10 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

بدھ کو ہونے والے اجلاس میں قومی اسمبلی کے نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا جائے گا، اس سلسلے میں موجودہ اسپیکر ایاز صادق نے اراکین کو طریقہ کار سے آگاہ کیا اور بتایا کہ 14 اگست کو دن 12 بجے تک اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی نامزدگی سے متعلق کاغذات جمع کرائے جاسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت تحریک انصاف کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے اسد قیصر جبکہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل اور دیگر جماعتوں کے گرینڈ اپوزیشن الائنس کی جانب سے خورشید شاہ کو نامزد کیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں شرکت کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی اور نامزد وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور قومی اسمبلی کے کارڈ کے لیے رجسٹریشن کروائی۔

اس موقع پر کچھ دلچسپ مناظر بھی دیکھنے میں آئے، عمران خان نے تصویر بنوانے کے لیے فوٹوگرافر ظفر سلطان کی واسکٹ پہن کر تصویر بنوائی۔

عمران خان کی جانب سے بنوائی گئی یہ تصویر بطور ممبر قومی اسمبلی عمران خان کے کارڈ پر آویزاں کی جائے گی۔

اس کے علاوہ یہ تصویر قومی اسمبلی کی ویب سائٹ اور دیگر سرکاری امور میں استعمال کی جائے گی۔

اسمبلی اجلاس میں عمران خان کے علاوہ تحریک انصاف کے دیگر اراکین میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، فواد چوہدری، شفقت محمود، عامر لیاقت حسین، شیریں مزاری اور دیگر اراکین نے بھی حلف لیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

شہباز شریف کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر اراکین راجا ظفر الحق، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور دیگر اراکین بھی موجود تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے، ان کے علاوہ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور دیگر اراکین بھی اسمبلی میں موجود تھے۔

حلف برداری کے موقع پر بلاول بھٹو کی بہنیں آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو بھی قومی اسمبلی میں مہمانوں کی گیلری میں موجود تھی۔

چیئرمین پی پی پی کی آمد کے موقع پر ایک خوشگوار منظر دیکھنے میں آیا، جب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی نشست سے اٹھ کر بلاول بھٹو زرداری سے مصافحہ کیا اور ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ عمران خان اور آصف علی زرداری کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں مختصر ملاقات بھی ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور ایک ساتھ تصویر بھی بنوائی۔

قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں بہت سے ایسے اراکین بھی ہیں جو کافی عرصے بعد رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، ان اراکین میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سردار اختر مینگل بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ بلوچستان سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہ زین بگٹی نے بھی قومی اسمبلی میں حلف لیا۔

واضح رہے کہ جمہوری وطن پارٹی کے شاہ زین بگٹی مرحوم بزرگ سیاسی رہنما نواب اکبر بگٹی کے پوتے ہیں۔

یاد رہے کہ نواب اکبر بگٹی 26 اگست 2006 کو بلوچستان کے ضلع کوہلو میں سابق جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں ایک آپریشن میں ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس اور ریڈ زون میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اس سلسلے میں خصوصی طور پر اضافی سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے تھے۔

خیال رہے کہ صدر مملکت ممنون حسین نے نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی درخواست پر قومی اسمبلی کا اجلاس 13 اگست کو طلب کیا تھا اور انہوں ںے ساتھ ہی ملک کے 21 ویں وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب کے باعث اپنا غیر ملکی دورہ بھی منسوخ کردیا تھا۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے آج (منگل کو) ہونے والے اجلاس میں رکن اسمبلی روشن دین کے جواں سال بیٹے کی وفات اور رکن اسمبلی محبوب سلطان کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

ہم اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے، رہنما پی ٹی آئی

حلف برداری سے قبل مختلف سیاسی رہنماؤں اور اراکین اسمبلی نے میڈیا سے بات چیت بھی کی۔

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ اس پر پورا اتریں، احساس ہے کہ ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی اور خارجہ امور میں بے پناہ چیلنجز ہیں، جن کا سامنا کرنے کی کوشش کریں گے، ہم میں برداشت ہے اور ہم اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

پی ٹی آئی کے رہنما شفقت محمود نے مختصر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایاز صادق اور خورشید شاہ سے ملاقات ہوئی تھی اور امید ہے کہ ملک کی خاطر تمام جماعتیں مل کر بہتری کی جانب قدم بڑھائیں گی۔

تحریک انصاف کے ترجمان اور رکن قومی اسمبلی فواد چوہدری نے کہا کہ لوگوں کو امیدیں بہت ہیں اور جب اتنی امیدیں ہوتی ہیں تو ڈر بھی لگتا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ ہم عوامی توقعات پر پورا اتریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے درخواست کی ہے کہ مل کر چلیں اور آگے بڑھنے کی کوشش کریں کیونکہ حکومت اور اپوزیشن کا تعاون نہیں ہوگا تو پارلیمنٹ کی کارکردگی نہیں رہے گی۔

سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ان کا جذبہ جوان ہے اور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ پاکستان کے عوام نے تحریک اںصاف پر اعتماد کیا اور یہ پاکستان کے لیے بہت بڑی تبدیلی ہے اور اس سے ملک ترقی کرے گا۔

اجلاس سے قبل پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی ملک میں واحد تجربہ کار جماعت ہے جس نے ہمیشہ آئین اور قانون کے تحت فیصلے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئین اور قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملکی اداروں کا احترام کیا ہے اور ہماری جماعت نے اپوزیشن کو قائل کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی سیاست کریں۔

سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں مسائل کی بات ہوگی اور پاکستان کے عوام کے حق کی بات ہوگی وہاں ہم متحد ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جنگ کرنے نہیں آئے بلکہ پاکستان کی بہتری اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے آئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ جتنی بھی قانون سازی ہو وہ انہیں ایوانوں میں ہوں اور یہ پارلیمنٹ حکومت کا مرکز ہو۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما برجیس طاہر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوری طریقے سے تیسری مرتبہ اقتدار منتقل ہورہا ہے لیکن جس طرح یہ اقتدار منتقل کیا گیا، ہمیں اس پر تحفظات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ بھی کرسکتے تھے لیکن ہم نے اس نظام کو چلانا ہے۔

اسمبلی اجلاس کے موقع پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندگی کا دعویٰ ہمارے ہاتھوں سے ابھی گیا نہیں ہے اور نہ ہی جائے گا۔

انہوں نے کہا جس طرح کے انتخابات ہوئے ہیں ان سے بہت سے سوالات اٹھے ہیں، جن کے جوابات جلد آنے والے ہیں۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کی اصل نمائندگی ہماری جماعت کرتی ہے کیونکہ اس میں متوسط طبقے کے ایسے لوگ موجود ہیں جو ایوانوں میں پہنچتے ہیں اور ہم ایسی جمہوریت کا خواب دیکھ رہے ہیں جہاں عوام بیٹھے ہوں، خاندان نہیں۔

علاوہ ازیں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان 18 اگست کو حکومت بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگ، جو کہتے تھے کہ شیخ رشید اسمبلی میں نہیں ہوگا، آج وہ خود یہاں نہیں ہیں اور میں آپ کے سامنے موجود ہوں۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ قوم نے جو ذمہ داری ڈالی ہے، اس پر پورا اتریں گے، جمہوریت کو آگے لے کر چلیں گے اور اپوزیشن کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔

اسمبلی کی رکنیت سے محروم اراکین

قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں تقریباً 50 فیصد اراکین ایسے ہیں، جو اس سے قبل رکن اسمبلی نہیں بنے جبکہ کچھ ایسے بڑے نام بھی شامل ہیں جو کئی مرتبہ رکن اسمبلی رہنے کے باوجود اس مرتبہ کوئی نشست حاصل نہیں کرسکے۔

ان اراکین میں جو قابل ذکر نام ہیں ان میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی، عوام نیشنل پارٹی (اے این پی) کے اسفند یار ولی شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں تحریک انصاف سرفہرست

ملک میں حکومت بنانے کے لیے تحریک انصاف کی پوزیشن مضبوط ہے اور قومی اسمبلی میں جنرل نشستوں کے ساتھ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ملا کر پی ٹی آئی 158 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔

تاہم 172 ارکان کی مطلوبہ تعداد تک پہنچنے کے لیے تحریک انصاف کو اپنے اتحادیوں کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے وہ پہلے ہی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم)، مسلم لیگ (ق)، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور دیگر کی حمایت حاصل کرچکی ہے۔

قومی اسمبلی میں نشستوں کی بات کی جائے تو مخصوص نشستوں کے ساتھ مسلم لیگ (ن) 82 اراکین کے ساتھ دوسری جبکہ پیپلز پارٹی 42 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

اس کے علاوہ متحدہ مجلس عمل قومی اسمبلی میں ایک اقلیتی نشست اور 2 خواتین کی نشستیں حاصل کرکے 15 نشتیں حاصل کرچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں