مسٹر ٹرمپ! قاسم سلیمانی ہی تمہارے لیے کافی ہے

نہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ہمارے صدر مملکت کے بیان کے جواب میں امریکی صدر نے کچھ حقیر باتیں کی ہیں اور یہ ہمارے صدر کی شان کے خلاف ہے کہ وہ ان حقیر باتوں کا جواب دیں،اس لئے میں اس نظام کا ایک سپاہی ہونے کی حیثیت سے اس کا جواب دیتا ہوں۔

انہوں نے امریکی صدر کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر ٹرمپ!ایران کو رہنے دو ،ایرانی افواج کی ابھی ضرورت نہیں،فی الحال میں تمہارے مقابلے پر ہوں،قدس بریگیڈ تمہارے مقابلے پر ہے،پہلے آکر ہم سے نمٹو!قاسم سلیمانی نے امریکی حکام کو یاد دہانی کراتے ہوئے کہا:کیا تم بھول گئے ہو کہ تم ایک زمانے میں ٹینکوں میں بیٹھے اپنے سپاہیوں کے لئے بڑے سائز کے پیمپرز (پیکنگ) فراہم کیا کرتے تھے اور آج آکر تم ہمیں دھمکانے کی کوشش کرتے ہو؟تم لبنان کی ۳۳ روزہ جنگ میں کیا بگاڑ پائے؟کیا تم نے اُس وقت جنگ کے خاتمے کے لئے حزب اللہ کی شرطوں کو تسلیم نہیں کیا؟!

انہوں نے امریکی حکام سے سوال کیا کہ آج تک تم ہمارا کیا بگاڑ پائے تو آج آکر تم ہمیں دھمکاتے ہو؟!قدس بریگیڈ کے کمانڈر نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:مسٹر ٹرمپ تم اپنی فوج کے سابق کمانڈر سے دریافت کرنا کہ اس نے کس کو ایران میں میرے پاس بھیجا تھا (جبکہ میں ملک کا ایک سپاہی تھا، صدر مملکت نہیں تھا) اور اس نے آکر ہم سے درخواست کی تھی کہ کیا آپ ہمیں مہلت دے سکتے ہیں؟کیا آپ عراق میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں راضی کر سکتے ہیں کہ جب تک ہم آئندہ چند ماہ میں وہاں سے خارج نہیں ہو جاتے،عراقی مجاہدین ہمارے فوجیوں پر حملہ نہ کریں؟!انہوں نے روزبروز امریکی کمزوری میں ہونے والے اضافہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک دور وہ تھا کہ جب امریکہ کا جنگی بیڑا اپنی جگہ سے حرکت کرتا تھا تو ایک ملک حکومت کا تختہ پلٹ جاتا تھا مگر آج نوبت یہ آگئی ہے کہ امریکہ طالبان جیسی ایک حقیر اور پست دہشتگرد تنظیم کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کی بات کرتا ہے اور ایران کو نقصان پہونچانے کے لئے ایران کے کوڑے دان میں پھینکے جا چکے دہشتگرد گروہ ایم کے او کے کا دامن تھامتا ہے۔جنرل سلیمانی نے کہا کہ میں جواری ٹرمپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم جہاں سوچ بھی نہیں سکتے، وہاں ہم تم سے نزدیک ہیں اور جہاں تمہارا طائر فکر بھی پرواز نہیں کر سکتا وہاں ہم تمہارے قریب موجود ہیں!سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سینیئر کمانڈر نے امریکہ کی جانب سے مسلسل آنے والی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تم نے اگر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تو اس کا آغاز تو تمہارے ہاتھ میں ہے مگر اس کا انجام ہم رقم کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں